Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

17 تغريدة 12 قراءة Feb 24, 2023
10 فروری سنہ 1258ء
یہ کوئی عام دن نہیں تھا کیوں کہ اس دن ایک ملک کے بادشاہ کو سونے کے سکے کھانے پر مجبور کیا گیا تھا ۔
یہ ملک بھی کوئی عام ملک نہیں تھا بلکہ یہ ایک empire تھی ۔
‘‘A Muslim Empire’’
اور دس فروری 1258ء اسی empire کا آخری دن تھا ۔
مگر آپ شاید اس خاتمے کو ...
ایک اور نام سے جانتے ہوں گے ۔
‘‘End of The Golden Age of Islam’’
’’سقوط بغداد‘‘
لیکن جن لوگوں نے بادشاہ کو سکے کھانے پر مجبور کیا تھا وہ بھی کوئی عام حملہ آور نہیں تھے بلکہ اپنے دور کی ایک بہت بڑی ملٹری پاور تھے لیکن آپ انہیں بھی ایک اور نام سے جانتے ہوں گے ۔
‘‘The Mongols’’
وہ منگول آرمی جن کے ساتھ دنیا کے چھ بدنام ترین war-lords اور تین بادشاہ تھے لیکن ایک بات بہت دلچسپ ہے کہ انہوں نے اپنے اس حملے کا آغاز کیا تھا بارہویں صدی کے ایران میں موجود ایک قلعے کے ساتھ ۔
’’العموت کا قلعہ‘‘
لیکن یہ قلعہ بھی کوئی عام قلعہ نہیں تھا بلکہ ...
اس میں دنیا کے بدنام ترین ’’ٹارگٹ کلرز ‘‘رہتے تھے جنہیں آپ شاید ایک اور نام سے جانتے ہوں گے ۔
‘‘Order Of The Assassins’’
ایران کے بدنام ترین ٹارگٹ کلرز یا قاتلوں کا ایک گروپ ۔
انفیکٹ ان قاتلوں کی تاریخ سے انسپائرڈ ہو کر آج ویڈیو گیم کی ایک پوری فرینچائز موجود ہے جس میں سے ...
صرف ایک گیم
‘‘Assassin’s Creed Valhalla’’
ایک ارب ڈالرز سے زیادہ کا بزنس کر چکی ہے ۔
لیکن یہ قاتل بھی کوئی عام قاتل نہیں تھے بلکہ انہیں اسٹیبلش کرنے والا مسلمان تاریخ کا ایک انتہائی پراسرار اور بدنام کردار تھا جسے مغرب کی دنیا
’’پہاڑ پر رہنے والا بوڑھا‘‘
کہا کرتی تھی ...
لیکن آپ اس بوڑھے کو بھی ایک اور نام سے جانتے ہوں گے ۔
’’حسن بن صباح‘‘
لیکن حسن بن صباح بھی کوئی عام لیڈر نہیں تھا ۔
وہ لوگوں کو اس طرح سے قائل کر لیتا تھا کہ اس کے کہنے پر لوگوں کے اپنے سینوں میں چاقو تک اتار لینے کا ریکارڈ موجود ہے ۔
وہ قرآن کی آیات کو جگہ جگہ ریفرینس ...
اور قوٹ کرتا لیکن اس کے پسندیدہ علوم میں سے ایک علم ’’ہاتھ کی لکیروں‘‘ اور ’’ستاروں کا علم‘‘ تھا اور اس کے لکھے ہوئے کچھ ڈاکیومنٹس العموت کے اسی قلعے کی لائبریری میں موجود تھے ۔
حسن صباح کے ٹارگٹ کلرز نے منگولوں کے وار لارڈز پر قاتلانہ حملے تو کیے تھے لیکن وہ لوگ ...
کامیاب نہیں ہو سکے اور اس طرح العموت کا قلعہ منگولز کے پاس چلا گیا اور یہاں انہیں حسن بن صباح کے وہ ڈاکیومنٹس مل گئے جنہوں نے پھر اس طوفان کا رخ عراق کی طرف موڑ دیا ۔
تیرہ دن ... صرف تیرہ دن کا محاصرہ اور آج ... 10 فروری 1258ء کو بغداد منگولز کے پاس چلا گیا ۔
لیکن منگولز نے ...
صرف بغداد نہیں لیا بلکہ انہوں نے وہاں ایک بہت عجیب کام کیا ۔
انہوں نے بغداد کی 36 لائبریرز کی کتابوں کے صفحے پھاڑ کر پھینک دیئے اور کتابوں کی جلدوں سے اپنے لیے چمڑے کے جوتے بنا لیے ۔
لیکن ان سب میں سے ایک بات بالخصوص بہت عجیب ہوئی کہ جب انہوں نے بغداد کی سب سے بڑی لائبریری ...
یعنی بیت الحکمہ یعنی ’’House of Wisdom‘‘ کی کتابیں دریا میں پھینکیں تو لوگوں نے کتابوں کی سیاہی کو دریا میں نکلتے دیکھا ۔
بیت الحکمہ کی کتابوں والے واقعے پر عام تاریخ کی کتابوں میں لوگ افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ کیسے کتابوں کو دریا میں پھینک دیا گیا لیکن جو بات میری توجہ ...
اپنی طرف کھینچتی ہے وہ یہ کہ وہ دریا ، انفیکٹ دریائے دجلہ تھا اور اس بات نے آگے چل کر بہت اہم ہو جانا ہے ۔
بہرحال ان واقعات کے تیس سال بعد اٹلی کا ایک مسافر یہاں سے گزرا اور اس نے اپنے سفر کی یاداشت میں ایک کتاب لکھی
‘‘Livres des Merveilles du Monde’’
لیکن آپ اس کتاب کو ...
ایک اور نام سے جانتے ہوں گے ۔
‘‘The Travels of Marco Polo’’
اور اپنی اس کتاب میں مارکو پولو نے یہ واقعہ لکھا ہے کہ جب بغداد منگولز کے پاس چلا گیا تو اس وقت انہوں نے یہاں کے بادشاہ کو خزانے والے کمرے میں بند کر دیا اور کہا کہ ...
‘‘eat of thou treasure as much as thou wilt, since thou art so fond of it’’
اب تو اپنے خزانے کو جتنا چاہتا ہے کھا لے ، کیوں کہ تو اسی خزانے کا شیدائی ہے‘‘
لیکن اس بادشاہ کو بھی آپ ایک اور نام سے جانتے ہوں گے۔
’’اسلام کے سنہری دور‘‘ کا آخری خلیفہ ...
مستعصم باللہ ...
لیکن یہ کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی ۔
العموت کے قلعے کے متعلق بتانے کی ایک خاص وجہ تھی اور وہ یہ کہ پانچ سو سال بعد ایگزیکٹلی یہی واقعات ایک مرتبہ پھر سے دہرائے گئے تھے ۔
لیکن اس دفعہ ملنے والے ڈاکیومنٹس العموت سے نہیں بلکہ عراق سے واپس جانے والے ایک فرنچ مسافر کی جیب سے ملے تھے ۔
اس دفعہ منگولوں کے ساتھ چھ وار لارڈز کی جگہ دنیا کے تین طاقتور ترین ملک اپنی ملٹریز لے کر عراق آ گئے تھے ۔
اس دفعہ خلیفہ مستعصم باللہ کی جگہ بغداد کا ایک اور شخص تھا جسے آپ جانتے بھی ہیں ۔
اور وہ عجیب بات جو میرے لیےحیرت اور دلچسپی کا سبب بنی کہ ایک مرتبہ پھر سے ...
دریائے دجلہ میں علم کا ایک خزانہ گرایا گیا ... یا پھر مجھے یوں کہنا چاہیئے کہ چھپایا گیا تھا ۔
اور اس دفعہ دجلہ نے صرف بیت الحکمہ کی کتابوں کو نہیں بلکہ پانچ بحری جہازوں پر چوری کیے گئے علم کو نگلا تھا ۔
ان ڈاکیومنٹس پر کس علم کے متعلق لکھا تھا کہ جو پچھلے ایک ہزار سال سے ...
دنیا بھر کے وار لارڈز کو عراق کی طرف کھیچن رہا ہے ؟
ان دودریاؤں میں سے ایک ، دریائے دجلہ کا اس علم سے کیا تعلق ہے ؟
’’چالیس ہزار سالوں کے علم ‘‘
سیریز کا وہ چیپٹر جسے ریلیز کرنے کے لیے میں خود بھی بہت منتظر تھا ۔
ان شاء اللہ آج ، جمعہ کی نماز کے بعد ریلیز ہو گا ۔
فرقان قریشی

جاري تحميل الاقتراحات...