Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

15 تغريدة 13 قراءة Feb 24, 2023
کل ہماری دنیا کے قریب سے ایک دمدار ستارہ گزرا تھا ، آسمان میں دھیرے دھیرے چلتے ڈارک گرین رنگ کا ایک بہت خوبصورت دمدار ستارہ لیکن عنقریب یہ ہمارے سسٹم سے نکل جائے گا اور دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گا ۔
لیکن کیا ہر دمدار ستارے کی کہانی اتنی ہی خوبصورت اور اتنی ہی اداس ہوتی ہے؟
آج میں اور آپ کتنی آسانی کے ساتھ دمدار ستاروں کی خوبصورتی کی باتیں کر رہے ہیں لیکن پچھلے کئی ہزار سالوں میں دمدار ستاروں نے لوگوں کے دلوں پر صرف اور صرف خوف طاری کیا ہے ۔
انہیں آسمانی آفات کا باعث سمجھا جاتا تھا مثلاً بادشاہ کی موت ، طوفان ، زلزلے اور جب 1618ء میں ...
ایک بہت بڑا دمدار ستارہ طلوع ہوا تھا تب عبادت گاہوں میں باقاعدہ اپنے گناہوں کی معافیاں مانگی گئی تھیں ۔
لیکن دمدار ستاروں سے قدیم لوگ ایک اور کام بھی لیا کرتے تھے ... پیشن گویاں ۔
کیسی عجیب سی باتیں ہیں ... بھلا دمدار ستاروں سے بھی کچھ ہوتا ہے ؟
پرانے زمانے کی فرسودہ باتیں ، اب ایسا کہاں ہوتا ہے ؟
لیکن کیا واقعی ؟
1997ء میں بھی ایک بہت بڑا دمدار ستارہ ہماری زمین کے قریب سے گزرا تھا ’’the great comet of 97‘‘
اور اس وقت امیرکہ میں ایک ایسا عجیب واقعہ پیش آیا کہ جو پوری دنیا کی خبروں میں چھپا تھا ۔
ایک شخص نے اپنی ایک ویڈیو ٹیپ ریکارڈ کی اور اس میں دعویٰ کیا کہ ...
’’اس دمدار ستارے کے گزرنے کے بعد آسمان کے دروازے بند ہو جائیں گے اوراس سے پہلے کہ وہ بند ہو جائیں ، ہم ان میں داخل ہونا چاہتے ہیں ۔‘‘
آپ کو پتہ ہے کہ بعد میں اس شخص نے کیا کیا تھا ؟
اس نے اپنےساتھ مزید 38 لوگوں کو قائل کیا اور ان سب نے اپنا گلا گھونٹ کر خود کشی کر لی ۔
اور اسی وجہ سے یہ لوگ بعد میں ’’heaven’s gate cult‘‘ کہلائے ۔
ایک دمدار ستارے کے گزرنے پر 39 لوگوں کی اجتماعی خود کشی ۔
لیکن اصل میں خود کشی کرنے والے اس گروپ میں 40 لوگوں نے ہونا تھا ...
مگر ان کا ایک ممبر ڈر کر گروپ چھوڑ گیا تھا ۔ اس شخص کا اصل نام تو کسی کو نہیں پتہ لیکن اتنا ضرور پتہ ہے کہ اسے ’’sawyer‘‘ کہہ کر بلایا جاتا تھا ۔
لیکن چالیس ممبرز کیو ں ؟
کیوں کہ چالیس کے ہندسے کی ’’مخفی علوم‘‘ میں بہت زیادہ اہمیت ہے اور اگر آپ تھوڑا سا غور کریں تو ...
چالیس کا عدد آپ کو جگہوں پر نظر آئے گا مثلاً چالیس دن کا چلہ ، چالیس دنوں کا ماتم ، چالیس دن کے بعد ہی رحم میں بچہ ڈیولپ ہونا شروع ہوتا ہے ۔
چالیس کو ایک نئی زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے ، ایک نئی روحانی زندگی کی علامت ۔
بہرحال ان سب 39 لوگوں کی جیب میں پانچ پانچ ڈالرز کے ...
نوٹ اور کچھ سکے تھے ۔ اب زیادہ تر لوگوں نے یہ سمجھا کہ انہوں نے یہ پیسے اپنی جیب میں اس لیے رکھے تھے تاکہ بعد میں کوئی ان کے گھروں میں کال کر کہ اطلاع دے دے ۔
لیکن میں آپ کو ان پانچ ڈالرز کا ایک اور معانی بتاؤں ؟
بہت کم لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ ساڑھےپانچ ڈالرزکا یہ ریفرینس ...
دراصل ایک امیرکن رائیٹر Mark Twain کی طرف تھا کیوں کہ مارک ٹوئین نے اپنی ایک کہانی میں لکھا تھا ۔
’’دمدار ستارے پر سفر کرنے کی فیس 5.75 ڈالرز ہے‘‘
لیکن مارک ٹوئین کیوں ؟ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری دن کے لیے مارک ٹوئین کا انتخاب کیوں کیا ؟
اس بات کا بھی ایک معانی ہے ۔
ایک اور دمدار ستارہ ہے جس کے نام سے شاید آپ سب واقف ہوں گے ’’the halley’s comet‘‘ یہ ہر 76 سال بعد زمین پر طلوع ہوتا ہے اور جب یہ 1835ء میں طلوع ہوا تھا تب مارک ٹوئین کی پیدائش ہوئی تھی ۔
لیکن اصل دلچسپ بات یہ نہیں ہے بلکہ اصل دلچسپ بات دراصل مارک ٹوئین ایک پیشن گوئی تھی ...
’’میں اس دمدار ستارے کے ساتھ آیا تھا اور اسی کے ساتھ واپس جاؤں گا‘‘
اور ہوا بھی ایسا ہی ، جب 1910ء میں اپنے 76 سال پورے کرنے کے بعد وہ دمدار ستارہ دوبارہ طلوع ہوا اور جس دن وہ زمین کے سب سے زیادہ قریب آیا تھا اس کے اگلے ہی دن مارک ٹوئین کی بھی موت واقع ہو گئی تھی ۔
کیا مارک ٹوئین بھی ستاروں سے پیشن گویوں میں indulged تھا ؟
کون جانتا ہے لیکن اس بڑی خود کشی کی تاریخ 22 سے 23 مارچ ہے جو ایک بہت ہی دلچسپ بات ہے لیکن مجھ سے پوچھیئے گا مت کیوں کہ اس کے پیچھے ایک اتنا گہرا معانی ہے کہ میں اسے ایک casual سے تھریڈ میں یوں ہی نہیں لکھ دینا چاہتا ۔
لیکن یہ سب باتیں شاید کوئی اہمیت نہیں رکھتیں ...
اگر میں آپ کو اس قوم کے متعلق بتا دوں جو چاند اور ستاروں کے متعلق اپنے علم میں انتہائی خطرناک حد تک آگے جا چکے تھے ...
اتنا آگے کہ ان کے ایک نبی کو بھی ان سے ستاروں کے متعلق ایک جھوٹ بولنا پڑ گیا تھا ۔
اور
’’چالیس ہزار سالوں کے علم‘‘
سیریز کا نواں چیپٹر ان ہی لوگوں کے متعلق ہے جو چاند اور ستاروں کے علم میں تمام حدود سے آگے بڑھ چکے تھے ۔
اور یہ چیپٹر میں ان شاء اللہ کل جمعے کے بعد ریلیز کروں گا ۔
فرقان قریشی

جاري تحميل الاقتراحات...