Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

25 تغريدة 47 قراءة Jan 13, 2023
ایک سوال جو کبھی نہ کبھی ہم سب کے ذہن میں ضرور آیا ہے کہ صحابہ کو دوسرے ممالک جا کر فتوحات کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟
کیا ضرورت تھی فرانس جا کر چارلز مارٹل سے لڑنے یا پھر سپین جا کر اسے فتح کرنے کی ؟
انہوں نے آرام سےعرب میں بیٹھ کر اسلام پر عمل کیوں نہیں کیا ؟
آپ جاننا چاہیں گے ؟
میں آپ کو اٹھارہویں صدی میں رہنے والے چار لوگوں کی ایک کہانی سنانا چاہتا ہوں ۔
ان میں سے پہلے شخص کا نام ہے Captain Arthur Conolly ہے جو اٹھارویں صدی کے قندھار یعنی افغانستان میں ایک برٹش آفیسر تھا ۔
آرتھر نے ایک مرتبہ اپنے ایک میجر کو خط لکھا جس میں اس نے بہت اہم بات کہی تھی ۔
’’آپ ... ایک بہت بڑے کھیل کا حصہ ہو ۔‘‘
دوسرے الفاظ میں ’’A Great Game‘‘ کا حصہ ۔
آرتھر کی لکھی ہوئی یہ ٹرم A Great Game ایک ریفرینس تھی ، اٹھارہویں صدی میں دنیا کی دو سپر پاورز ، دو بڑی طاقتورں کے درمیان ہونے والی ایک سیاسی اور سفارتی جنگ کا ۔
برٹش امپائر اور رشین امپائر ...
جس کے متعلق Lord Palmerston نے ایک مرتبہ کہا تھا ۔
’’دو متکبر اور پھیلتی ہوئی سلطنتیں ، خاموش ریچھوں کی طرح دھیرے دھیرے ایک دوسرے تک پہنچ رہی ہیں ، دونوں ریچھ کسی بارڈر کو نہیں مانتے ، دونوں ریچھ ایک دوسرے پر غرّا رہے ہیں اور دونوں ہی ریچھ ایک دوسرے کو مار دینا چاہتے ہیں ۔‘‘
اٹھارویں صدی میں انڈیا پر برٹش امپائر کی حکومت تھی اور انہیں ڈر تھا کہ اگر روس افغانستان تک پہنچ گیا تو وہ بہت بہت طاقتور ہو جائے گا اور انہیں یہ بھی پتہ تھا کہ روس ضرور ضرور آئے گا ۔
اور یوں 9 وجوہات ایسی تھیں کہ پھر جن کی وجہ سے برٹش امپائر نے رشین امپائر سے ...
افغانستان میں ٹکرانے کا فیصلہ کیا اور اپنی فوج افغانستان میں بھیج دی ۔
اسی بات پر افغان امیر شیر علی پر ایک کارٹون بھی بنا تھا جو ایک ببر شیر یعنی برٹش امپائر اور ایک بڑے ریچھ یعنی رشین امپائر کے درمیان کھڑا کہہ رہا ہے ۔
’’مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ‘‘۔
یہاں میں آپ کو اس کہانی کی دوسری کردار کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جو افغانستان آنے والے انہی برٹش آفیسرز میں سے ایک کی بیوی تھیں ۔
ایک انگلش خاتون Lady Florentia Sale جن کی ڈائری پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور کہانی کا یہ حصہ میں ان کی ڈائری میں سے پڑھ کر آپ کو سنا رہا ہوں ۔
اگست 1840ء
’’برٹش امپائر کا افغانستان میں آنا رشین امپائر کو ضرور پریشان کرے گا ، ہم لوگ یہاں بہت ٹھاٹھ باٹھ سے رہ رہے ہیں ، ہم نے کابل میں بڑے بڑے mansions بنوائے ہیں ان میں فرانسیسی شراب اور کرسٹلز کے فانوس لگے ہوئے ہیں ، لیکن ہماری کینٹ کا سائز بہت بڑا ہے اور اس میں اتنی ...
فوج نہیں ہے جس سے مجھے ڈر ہے کہ اس کا ڈیفنس کرنا کمزور ہو گا ۔‘‘
نومبر 1841ء
’’افغان سرداروں میں سے ایک سردار عبداللہ خان اچکزئی کی ایک غلام کشمیری لڑکی اپنے گھر سے بھاگ کر ایک برٹش آفیسر Sir Alexander Burnes کے گھر چلی گئی ہے ۔
جب عبداللہ نے اسے واپس لینے کے لیے ...
اپنے لوگوں کو بھیجا تو اس لڑکی نے واپس جانے سے انکار کر دیا اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ شاید وہ لڑکی Burnes کے ساتھ رات کو رہ چکی ہے ۔‘‘
2 نومبر 1841ء
’’پشتون ہمارے خون کے پیاسے ہوئے لگ رہے ہیں ، کابل شہر میں ہنگامہ اور لوٹ مار ہو رہی ہے وہ لوگ Burnes کے گھر کے باہر جمع ہیں ...
اور برنس گھر کے باہر کھڑا انہیں پشتو میں سمجھا رہا ہے کہ اس لڑکی کے ساتھ میں نے کچھ نہیں کیا لیکن بات چیت کامیاب نہیں ہورہی ۔
انہوں نے برنس اور دوسرے آفیسرز کے گھر پر حملہ کر دیا ہے اور جو بھی سامنے آ رہا ہے اسے قتل کر رہے ہیں چاہے وہ کوئی انڈین ملازم ہو یا انگریز افسر ۔‘‘
بالآخر ان واقعات کے بعد انگریزوں اور افغانوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا تھا جس میں سولہ ہزار انگریزوں کو کابل سے بحفاظت جلال آباد جانے کی اجازت دے دی گئی اور Lady Sale ان میں سے ایک تھیں ۔
ان سولہ ہزار میں سے بارہ ہزار لوگ تو انڈین اور افغان ملازم ، ملازمائیں اور ان کے بچے تھے ...
اور اس طرح سولہ ہزار کا یہ قافلہ کابل سے جلال آباد کی طرف جنوری کی کڑکڑاتی سردی میں نکل کھڑا ہوا ۔
یہاں میں اس کہانی کے تیسرے کردار کو متعارف کروانا چاہتا ہوں ، ایک بے نام عورت ، ایک افغان ملازمہ ۔
2 جنوری 1842ء
’’مجھے اس عورت کا نام نہیں پتہ ، ایک افغان ملازمہ ہے ...
وہ بہت زیادہ رو رہی ہے بہت گھبرائی ہوئی ہے ، اس نے اپنی کمر پر دو انگریز بچوں کو سوار کیا ہوا ہے اور وہ بھاگی بھاگی جا رہی ہے ، بچوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے ۔
غلزئی قبائلیوں نے حفاظت کے وعدے کے باوجود وعدہ خلافی کر کہ ہم پر حملے شروع کر دیئے ہیں ۔
شاید وہ عورت نہ بچ پائے ۔‘‘
8 جنوری 1842ء
’’ہم ایک گاؤں میں پہنچے ہیں ، جس کو جہاں جگہ مل رہی ہے وہ وہاں سے برف ہٹا ہٹا کر اس پر لیٹ رہا ہے ، ہم ’’کورد ‘‘ نامی ایک درے سے گزرے جو دو پہاڑوں کے درمیان ایک بہت تنگ راستے کا نام ہے ، اتنا تنگ کہ وہاں سورج کی روشنی بھی نہیں آتی جس کی وجہ سے وہاں ...
ناقابل برداشت ٹھنڈ تھی ۔
اسی دوران ہم پر پہاڑوں کے اوپر سے ایک اور قبیلے نے بھی حملہ کر دیا ، گولیاں ہم پر بارش کی طرح برس رہی تھیں ۔
حالانکہ انہوں نے ہم سے حفاظت کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ ہمیں نہیں چھوڑ رہے ۔
ایک افغان امیر اکبر خان نے ہمیں پیغام بھیجا ہے کہ یہ لوگ تمہیں ...
اسی طرح مارتے رہیں گے ، اپنی عورتیں ہمارے حوالے کر دو ۔
ایک برٹش افسر بات چیت کے لیے اکبر خان کے پاس گیا جس نے ’’داری‘‘ زبان میں افسر کے ساتھ بات کی اور اس کے سامنے اپنے لوگوں کو ہمیں ’’حفاظت‘‘ دینے کا کہا لیکن پھر پشتو میں اپنے لوگو ں سے بات کرنے لگ گیا ، یہ سمجھتے ہوئے کہ ...
شاید انگریز افسر پشتو نہیں جانتا اور انہیں ایک حکم دیا ۔‘‘
وہ حکم جو Lady Sale نے اپنی ڈائری میں ان الفاظ کے ساتھ لکھا ہوا ہے ...
‘‘Kill them all’’
10 جنوری 1842ء
’’تاریکی نامی ایک درے سے گزرتے ہوئے ، جو صرف چار گز چوڑا ہے ، ہمارے کاروان پر قبائلی بار بار حملے کر رہے ہیں ...
شدید سردی کی وجہ سے ہم لوگوں کی انگلیاں frostbite کا شکار ہو چکی ہیں ، اور ہم جواب میں بندوق نہیں چلا پا رہے ۔‘‘
اور اس طرح آج کے دن ، یعنی 13 جنوری 1842ء کو
ہندوکش کے بے رحم پہاڑوں میں گندھامک درے تک پہنچتے پہنچتے انگریزوں کا ہر شخص قتل کر دیا گیا تھا
سوائے ایک آدمی کے ...
سولہ ہزار کے قافلے میں سے بچا صرف ایک شخص جو جلال آباد پہنچا ۔
Dr. William Braydon, The Sole Survivor
اور یہاں میں لکھنا چاہتا ہوں اس کہانی کے آخری کردار کے متعلق جسے شاید کوئی بھی نہیں جانتا لیکن 2 مارچ 1843ء کے انڈین گجراتی اخبار میں ایک خبر چھپی تھی ۔
02 مارچ 1843ء
’’آج صبح ایک عجیب آدمی گجرات پہنچا ہے ، فقیروں جیسا ایک آدمی ، بالوں اور مٹی سے اٹا ہوا ، جس کے جسم پر کوئی کپڑا نہیں ، سورج میں چلتے رہنے کی وجہ سے اس کا چہرہ جلا ہوا ہے ۔
اور وہ اپنے آپ کو افغانستان کی 44th رجمنٹ کا Lance Sargeant Philip Edwards بتاتا ہے ...
جو گندھامک درے سے پندرہ مہینے تک پیدل سفر کر کہ جان بچا بچا کر انڈیا پہنچا ہے لیکن اسے کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے ۔‘‘
یہ کہانی اس سے کہیں زیادہ لمبی ہے ، اور اس سے کہیں زیادہ دردناک ہے لیکن جو میں آپ کو بتانا چاہتا تھا ، وہ میں بتا چکا ہوں ۔
ہر قوم نے طاقت کے لیے کوشش کی ہے ...
ہر قوم میں وعدہ خلاف اور جھوٹ بولنے والے موجود ہیں ، ہر قوم میں محبت کرنے والی مائیں بھی موجود ہیں اور ہر قوم میں حفاظت کا وعدہ کرنے کے باوجود مکر جانے والے لوگ بھی موجود ہیں ۔
ہماری قومیت ہمیں ڈیفائن نہیں کرتی ، ہمارا نظام ہمیں ڈیفائن کرتا ہے اور اس وقت صرف ایک نظام ایسا ہے ...
جو وعدہ خلافی کرنے سے قانوناً روکتا ہے ، صرف ایک نظام ایسا ہے جو عورتوں اور بچوں کو پروٹیکشن دینے کی بات کرتا ہے ۔
وہ نظام جو لڑائی کے دوران درختوں اور فصلوں تک کو محفوظ رکھنے کا حکم دیتا ہے ، جو کسی کے ہتھیار ڈال دینے پر حفاظت کے ساتھ اسے اس کے گھر پہنچا دینے کا حکم دیتا ہے ۔
اور ہاں ، میں دل سے کہتا ہوں کہ اس اتنے منصفانہ نظام کو فرانس اور سپین تو کیا ، پوری دنیا میں قائم ہونا چاہیئے تھا کیوں کہ ...
آپ ... ایک گریٹ گیم کا حصہ ہو ... آپ چاہو ، یا نہ چاہو ۔
سوال صرف یہ ہے کہ آپ اس گریٹ گیم میں کس نظام کو قائم کرنے کے لیے لڑو گے ۔
فرقان قریشی ۔

جاري تحميل الاقتراحات...