Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

11 تغريدة 10 قراءة Feb 24, 2023
میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ اس کائنات میں کچھ بھی رینڈملی نہیں ہو رہا ، میتھ میٹکس کی ایک ٹرم ہے the chaos theory یعنی کہ بظاہر چیزیں disorder کا شکار نظر آ سکتی ہیں لیکن اس ڈس آرڈر کے اندر بھی ہم patterns دیکھ سکتے ہیں ۔
آج سے ٹھیک 466 سال پہلے یعنی 5 نومبر کو ایک لڑائی ہوئی تھی ...
اپنی آنکھوں سے اس لڑائی کو دیکھنے والے ایک گواہ نے اکبرنامہ میں لکھوایا تھا کہ ...
’’یوں کہہ لیں کہ ہوا میں بس سرخ تلواریں ہی نظر آ رہی تھیں ، ان کا لوہا نظر نہیں آتا تھا ، صرف یوں لگتا تھا جیسے سرخ یاقوت چل رہے ہوں (یعنی ان پر اتنا خون لگا ہوا تھا) ۔‘‘ اکبرنامہ 1556ء
سات سو ہاتھیوں اور چالیس ہزار انسانوں سے لڑی گئی یہ لڑائی ہندومہاراجہ ہیمو اور تیرہ سال کے اکبر کے درمیان ہوئی تھی ... لیکن یہ کسی صورت برابری کی لڑائی نہیں تھی ... بلکہ ہیمو اس جگہ تک آتے آتے راستے میں بائیس لڑائیاں جیت کر پہنچا تھا بلکہ اس وقت تو اس کے پاس اس قدر ...
خطرناک war elephants اکٹھے ہو چکے تھے کہ آگرہ کا مغل گورنر ہیمو کے آنے کا سنتے ہی شہر چھوڑ کر چلا گیا تھا اور یہ وہ وقت تھا جب ہیمو نے خود کو ’’وکرم دتیا‘‘ کا ٹائٹل دیا تھا اور آپ میں سے جو ہندو مائتھالوجی کو سٹڈی کر چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہندوؤں کے لیے یہ کس قدر بڑا ٹائٹل ہے ۔
ہندوازم کی پوری تاریخ میں ... صرف آٹھ وکرم دتیا ٹائٹلز گزرے ہیں ۔
اس لڑائی کی ڈیٹیلز بڑی دلچسپ ہیں کیوں کہ ہیمو نے مغلوں پر اپنے war elephants چھوڑ دیئے تھے اور وہ خود بھی ایک بہت بڑے ہاتھی پر بیٹھا تھا جس کا نام ’’hawa‘‘ تھا اور وہ لوگ آلموسٹ جیت گئے تھے ، لیکن بائی چانس ...
غلطی سے ایک تیر ہیمو کی آنکھ میں لگ گیا جس سے وہ بیہوش ہو گیا اور اس کی آرمی میں panic پھیل گیا اور پھر یوں ... اکبر نے ٹیک اوور کر لیا تھا ۔
اس کے بعد کیا ہوا ؟ کسی نے لکھا ہے کہ ہیمو کو بیہوشی کی حالت میں تیرہ سالہ اکبر کے سامنے لاکر کہا گیا کہ اس کا سر کاٹ دے لیکن اس نے ...
بیہوش آدمی پر تلوار اٹھانے سے انکار کر دیا ، کسی نے یہ بھی لکھا ہے کہ اکبر نے واقعی ہیمو کا سر کاٹ کر کابل بھجوا دیا تھا اور کوئی لکھتا ہے کہ اکبر نے ہیمو کے اپنے ہی ہاتھی ’’hawa‘‘ کو اس کے سر پر چڑھوا دیا تھا ۔
حقیقت میں کیا ہوا تھا ؟ یہ شاید ہمیں کبھی پتہ نہ چلے لیکن ...
یہیں سے ہی ہندوستان کے اندر صحیح معنوں میں mughal era کا دور شروع ہوا تھا ۔
ہیمو یا پھر وہ مہاراجہ جس نے خود کو اپنی طاقت کی وجہ سے ’’وکرم دتیا‘‘ ڈکلیئر کر دیا تھا ، وہ لوگ آلموسٹ جیت گئے تھے ، probablity theory کی سائنس کے مطابق اکبر کا یہ لڑائی جیتنا ناممکن تھا بلکہ وہ تو ...
اپنی فوج سے بھی آٹھ میل پیچھے پیچھے چلتا آ رہا تھا لیکن پھر بھی وکرم دتیا ہار گیا اور ہندوستان میں ایک نئے era کا آغاز ہوا ۔
ان واقعات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کبھی بھی کچھ بھی رینڈم نہیں ہوتا ، جیسے سب کچھ ایک گرینڈ پلان کا حصہ ہے ، ایک ماسٹر پلان ، جس نے execute ہو کر رہنا ہے ...
اس گرینڈ پلان ، اس ماسٹر پلان کی execution میں ہمیں بظاہر اتفاق سے جو غلطیاں ہوتی نظر آتی ہیں وہ بھی چانسز نہیں ہوتے ، بلکہ وہ ’’اتفاق‘‘ بھی اسی گرینڈ پلان کا حصہ ہوتے ہیں اور اس گرینڈ پلان کی سمجھ آتی ہے الفرقان کی دوسری آیت سے ...
’’زمین و آسمان کی سلطنت صرف اللہ کے لیے ہے ...
اس نے ہر شئے بنائی اور ہر شئے کے لیے ... ایک تقدیر ٹھہرا دی ہے ۔ (الفرقان 25:02)
ہر چیز کے لیے ایک گرینڈ پلان ہے ...
جو لکھا ہوا ہے اس نے مل کر رہنا ہے اور جو نہیں لکھا ہوا اس نے چھِن کر رہنا ہے ... فرق صرف اس بات کا ہے کہ ہماری کوشش کس چیز کے لیے ہے ۔
فرقان قریشی

جاري تحميل الاقتراحات...