Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

86 تغريدة 13 قراءة Feb 24, 2023
سورۃ روم کی آیت 23 سے آپ کئی بار گزرے ہوں گے
’’اس کی نشانیاں رات اور دن کی نیند میں ہیں‘‘
اور یقیناً یہی سمجھ کر بغیر دھیان دیئے گزر گئے ہوں کہ ہاں واقعی دیکھو کس طرح انسان سوتا جاگتا ہے ، سبحان اللہ ، لیکن کبھی سوچنے کی کوشش کی کہ یہ کن نشانیوں کی بات ہو رہی ہے ؟
نیند میں انسان کیا کر رہا ہوتا ہے ؟ لیکن مزید آگے پڑھنے سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ آپ ذرا یہ پیرا گراف پڑھ لیں ۔
’’میں اور میرا بھتیجہ زین کسی میلے میں گئے ، شہر کا نام تو اب مجھے یاد نہیں لیکن وہ ایک دریا کے کنارے تھا ، وہاں بہت سارے لوگ آئے وے تھے لیکن میں کسی کو نہیں جانتا تھا
زین نے مجھے کہا کہ فرقان چاچو میں نے سائیکل چلانی ہے ، میں نے اسے سائیکل چلوائی لیکن وہ گر گیا اور اسے چوٹ بھی لگ گئی‘‘
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں اپنی زندگی کا کوئی ریئل واقعہ بتا رہا ہوں ؟ لیکن یہ ایک خواب میں ہوا واقعہ ہے جو میں نے چار رات پہلے دیکھا تھا ۔ اور اگر میں یہ بات
نہ بتاتا تو اس پیرا گراف کو پڑھ کر کوئی بھی انسان یہ فرق نہ کر سکتا کہ یہ ایک خواب کی بات ہو رہی ہے یا کسی کے اپنی ڈائیری میں لکھے ایک واقعے کی ۔
خواب ، جو کہ دنیا کا ہر انسان اپنی زندگی میں دیکھتا ہے اِن فیکٹ ایک نارمل انسان اپنی عمر کے چھ سال خواب دیکھتے گزارتا ہے ۔
ہر خواب پندرہ سے بیس منٹ اور ہر نیند میں ڈیڑھ سے دو گھنٹے تک چل سکتا ہے اور عموماً ایک تصویری صورت میں نہیں بلکہ ایک باقاعدہ حقیقی running narrative کی صورت میں ہوتا ہے ۔
لیکن خواب ، تو ہمارے پاکستان میں ایک ’’non realistic‘‘ یا غیر حقیقی سی بات کو کہتے ہیں ۔
مثلاً ’’خوابوں کی دنیا سے باہر آؤ فرقان‘‘ یا پھر ’’فرقان خوابوں کی باتیں چھوڑیں ، حقیقت کی بات کریں‘‘
لیکن کیوں ؟ ہم خوابوں کو ایک نیگیٹیو چیز کیوں سمجھتے ہیں ؟ میں نے ان پر تھریڈ لکھنے کی کیوں سوچی ؟ اس کا ہماری حقیقی زندگی سے کیا تعلق ہے ؟ اوکے ، آپ ذرا ایک خواب امیجن کریں !
’’آپ اپنے بھائی کو غیر موجودگی میں آپ کے گھر آ کر سامان چوری کرتا دیکھتے ہیں ، یا آپ کو بار بار ایک خواب آ رہا ہے جس میں آپ کی بیوی یا شوہر آپ کو دھوکا دے رہے ہیں‘‘
صبح جاگنے کے بعد آپ کے ذہن میں کیا چل رہا ہو گا ؟
آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن آپ جاگنے کے بعد اپنے بھائی ، بیوی یا
شوہر سے ایک دفعہ محتاط ضرور ہو جائیں گے ۔
کیوں کہ ہمارے خواب جاگنے کے بعد والے رویے پر اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں ۔ چلیں میں مانتا ہوں شاید آپ کو میری اس بات کا یقین نہ آیا ہو اس لیے میں آپ کو ہارورڈ میڈیکل سکول کے sleep research dept میں ہوئی ایک ریسرچ کے بارے میں بتاتا ہوں ۔
اس ریسرچ میں dr. erin wemsley اور dr. bob stickgold نے کچھ لوگوں کا ایک گروپ بنایا ، انہیں بھول بھلیاں کی یہ والی تصویر دکھائی جو آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں ، انہیں پانچ گھنٹے سونے کے لیے وقت دیا اور پھر ان سے بھول بھلیاں میں راستہ تلاش کرنے کا کہا ۔
اس گروپ میں دی گئی پانچ گھنٹے کی نیند میں تین قسم کے لوگ بنے ، پہلے وہ جنہوں نے نیند کے دوران کوئی خواب نہ دیکھا ، دوسرے وہ جنہوں نے خواب تو دیکھا لیکن کسی اور چیز کے بارے میں ، اور تیسرے وہ جنہوں نے خواب میں یہی بھول بھلیاں دیکھی اور جب بعد میں بھول بھلیاں میں راستہ تلاش کرنے
اور جب بعد میں بھول بھلیاں میں راستہ تلاش کرنے کا ٹیسٹ لیا گیا تو تیسرے گروپ کی پرفارمنس 10 گنا زیادہ بہتر تھی ۔
اوکے ! شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ فرقان ! ظاہر ہے جو ہم دن کو کر رہے ہوتے ہیں وہی ہمیں خواب میں بھی نظر آتا ہے ، اس لیے میں آپ کو مزید ایک سٹڈی کے بارے میں بتاتا ہوں ۔
یہ سٹڈی dr. rosalind cartwright نے کی انہوں نے دو گروپس بنائے پہلا گروپ طلاق یافتہ عورتوں کا تھا اور دوسرا گروپ ان مردوں کا جو سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ان میں سے کچھ عورتیں ایسی تھیں جو طلاق کے بعد بھی اپنے شوہر کو خواب میں دیکھ رہی ہوتی تھیں اور کچھ مرد ایسے بھی تھے جو
سگریٹ چھوڑنے کی کوشش کے باوجود خواب میں سموکنگ دیکھتے تھے ۔
لیکن عجیب بات یہ کہ جو عورتیں اور مرد ان چیزوں کو خواب میں دیکھ رہے تھے وہ اپنے دکھ اور struggle سے زیادہ جلدی باہر آ رہے تھے ۔ ہے نہ عجیب بات ؟
اور اب میں آپ کو ان تینوں سائینسدانوں کی رپورٹ کا نچوڑ بتا رہا ہوں کہ
’’یوں لگ رہا ہے جیسے خواب ، ہمیں مشکل سیچوئیشنز میں سے باہر نکلنے کا راستہ دکھا رہے ہوں‘‘
لیکن خواب آخر ہیں کیا ؟ مشہور زمانہ dr. freud اور dr. james kalat کہتے ہیں کہ دراصل جب ہمارا دماغ بکھری ہوئی سوچوں کو اکٹھا کر رہا ہوتا ہے تو وہ ہمیں خواب کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں ۔
لیکن خواب دماغ کے کس حصے میں پیدا ہوتا ہے ؟ اور وہ ہمارے رویے پر کیوں اثر انداز ہوتا ہے ؟ اس کا جواب ان دونوں ڈاکٹرز نے بڑا مختصر سا دیا ہے ۔
’’ہمیں نہیں پتہ‘‘
گائیز ! خواب ، سائینس کی بڑی پہیلیوں میں سے ایک ہیں ، لیکن یہیں سے تو میرے تھریڈ کے دلچسپ حصے کا آغاز ہوتا ہے ۔
چلیں ، مان لیا کہ خواب بکھری سوچوں کا نام ہے تو پھر اب میں آپ سے جو سات سوال پوچھنے جا رہا ہوں ، ان کا جواب کیا ہو گا ۔
آپ نے وہ مشہور ناول پڑھا ہے frankenstein’s monster اس پر دو فلمیں بھی بنی تھیں ، یہ ناول marry shelley نے لکھا تھا ، اور یہ پورے کا پورا ناول اس نے حقیقت میں
لکھنے سے پہلے خواب میں دیکھا تھا ۔
میرے تھریڈز سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ فرقان قوانٹم فزیکس کے بارے میں بہت لکھتا ہے ، قوانٹم فزیکس کے بانی niels bohr نے ایٹم کا پورے کا پورا سٹرکچر اسے دریافت کرنے سے پہلے خواب میں دیکھا تھا ۔
سلائی مشین ایجار کرنے والے شخص نے اس کا
پورا میکانزم elias howe نے ایک خواب کے دوران دیکھا تھا ۔
انسانی DNA کا مشہور ڈبل ہیلکس سٹرکچر dr. rosalind franklin نے دریافت کرنے سے پہلے اپنے خواب میں دیکھا تھا ۔
ایک کیمیکل ہے benzene نام کا ، اس کا اٹامک سٹرکچر ایک طویل عرصے تک ایک پہیلی بنا رہا لیکن friedrich august نے
ایک رات بینزین کا ایٹامک سٹرکچر خواب میں دیکھا اور واقعی وہ صحیح نکلا ۔
آپ نے میٹرک یا ایف اے میں قبلائے خان نامی ایک نظم پڑھی ہو گی ، لیکن آپ یہ نہیں جانتے ہوں گے کہ اس کے لکھاری samuel taylor نے وہ نظم خواب میں دیکھی تھی ۔
کم سے کم ہم سب نے میٹرک کی کیمسٹری میں
مشہور زمانہ periodic table دیکھا ہے ، یہ ایک روسی سائینسدان mendeleev نے دریافت کیا تھا اور بعد میں اس نے بتایا کہ ایک خواب کے اندر تمام کیمیکل ایلیمنٹس میری آنکھوں کے سامنے آئے اور انہوں نے خود کو اپنے atomic mass کے حساب سے ترتیب دینا شروع کیا اور میں انہیں یاد کرتا چلا گیا ۔
اور یہ periodic table بنایا ۔
فلسفے کی تاریخ میں شاید سب سے مشہور خواب سولہویں صدی کے اٹالین فلسفی giordano bruno کا تھا ۔ یہ وہ دور تھا جب سائینس اور عیسائیت دونوں یہی بات مانتے تھے کہ ہماری زمین flat ہے اور سورج ، چاند اور ستارے اس کے گرد گھوم رہے ہیں ۔ لیکن جیورڈانو نے خواب
دیکھا کہ ایسا نہیں ہے بلکہ ہماری زمین ایک سیارہ ہے جو باقی سیاروں کی طرح سورج کے گرد گھوم رہی ہے ۔ اِنفیکٹ آپ جانتے ہیں کہ چرچ کی طرف سے اسے اس خواب کی بارہ سال قید کے بعد زندہ جلا دیئے جانے کی صورت میں دی گئی ۔
آپ کچھ نوٹس کر رہے ہیں گائیز ؟ خواب کسی صورت بکھری ہوئی سوچیں
نہیں ہو سکتے اور بدقسمتی سے خوابوں کو جتنا under-estimate ہمارے پاکستان یا مسلمانوں میں کیا جاتا ہے ، شاید ہی کہیں اور کیا جاتا ہو ۔
ایک تو ہوتی ہے خوابوں کی سائینٹیفیک سٹڈی جسے oneirology کہتے ہیں لیکن ایک علم ہوتا ہے جس میں خوابوں سے مطلب اخذ کرنے کی جانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
اسے تعبیر کہتے ہیں ۔ یہ ہنر اتنا پرانا ہے کہ مجھے اس کے ٹریسز 5000 سال پرانی بابل کی تہذیب تک میں ملے ۔
اور بعد میں آنے والے مصری تو خوابوں کو اپنے دیوتاؤں کی طرف سے ہدایت کا راستہ مانتے تھے ، انہوں نے تو اپنے محلوں میں باقاعدہ dream-beds بنائے ہوتے تھے جہاں جا کر وہ سوتے تھے ۔
عیسائیت پر اپنی ریسرچ کے دوران ان کے ہاں بھی مجھے خوابوں کی اہمیت کا اندازہ ہوا بلکہ ان کے عہد نامہ قدیم میں somniale danielis نام سے مجھے پوری ایک کتاب ملی یعنی دانیال کے خواب ، دانیال جو آج سے 4600 سال پہلے بخت نصر کے زمانے کے ایک شخص تھے ، اور اسلام میں بھی ان کا ذکر ملتا ہے ۔
لیکن وہ لقمانؒ یا ذوالقرنین کی طرح ہیں ، یعنی کہ وہ نبی تھے یا نہیں ، ہمیں نہیں پتہ لیکن بائیبل میں ان کے خوابوں کے متعلق پوری ایک کتاب ہے اور بذات خود دانیال کی کہانی بھی ایک بڑی حیرت انگیز روداد ہے لیکن اسے پھر کبھی کسی تھریڈ میں لکھوں گا ۔
البتہ یہودیت میں مجھے کچھ بڑی دلچسپ
چیزیں ملیں ہیں ، اہل یہود کا ایک کٹر فرقہ ہے جو قبالہ پر یقین رکھتا ہے ، ایک بات بتا دوں کہ ہمارے پاکستان میں یوٹیوب پر قبالہ کے متعلق بہت زیادہ مِس انفورمیشن پھیلائی گئی ہے کہ قبالہ بڑا خطرناک کالا جادو ہے اور یہودی اس کے ذریعے جنتر منتر کر کے شیطان کی پوجا کرتے ہیں ۔
قبالہ ایسا کچھ نہیں ہے گائیز ، بلکہ وہ اس سے کہیں کہیں زیادہ حیرت انگیز ہے ، البتہ وہ میرے آج کے تھریڈ کا ٹاپک نہیں ہے ، لیکن قبالہ کی ایک کتاب میں سے میں آپ کو یہ تصویر دکھانا چاہتا ہوں جو پہلی نظر دیکھنے میں شاید آپ کو کچھ خاص نہ لگے لیکن اس تصویر کا مطلب ہے درمیان میں ہم
یعنی کہ انسان ، ہمارے گرد تمام زمین و آسمان اور ہم سے لے کر سب سے اوپر والے آسمان تک ڈائیریکٹلی connect ہوتا ایک راستہ جو خواب کے ذریعے سے استعمال کیا جا سکتا ہے ، یعنی عام الفاظ میں ، خدا اور ہمارے درمیان کا بلا رکاوٹ والا راستہ ۔
اوکے ، آپ سوچ رہے ہوں گے کہ فرقان ہمیں تمام
مذاہب کا بتا رہا ہے لیکن اسلام میں خوابوں کے بارے میں نہیں ، میں چاہتا تھا کہ اسلام میں خوابوں کے بارے میں آپ کو آخر میں بتاؤں کیوں کہ خوابوں کو جتنی اہمیت اسلام نے دی ہے ، شاید ہی کسی اور مذہب میں ملی ہو ۔
قرآن پاک میں آٹھ مختلف خوابوں کا ذکر ہے ، اِنفیکٹ حضرت یوسفؑ کی زندگی تو
خوابوں کے واقعات سے بھرپور ہے ۔ بلکہ قرآن کے مطابق تو اللہ پاک نے انہیں خوابوں کی تعبیر کا باقاعدہ علم دے رکھا تھا ۔
نبی کریم ﷺ کی زندگی میں خوابوں کی اہمیت جاننے کے لیے مجھے 640 منفرد احادیث کا مطالعہ کرنا پڑا ، اور نبی کریم ﷺ کو خوابوں میں جو جو باتیں دکھائی گئیں تھیں
میں آپ کو ان میں سے چند ایک کے صرف نام بتا دیتا ہوں ۔
سونے کی اینٹوں سے بنی جنت ، ایک کنویں کی شکل میں بنی جہنم جو پیچ در پیچ مڑی ہوئی تھی ، جہنم کا داروغہ ، جبرائیلؑ ، میکائیلؑ ، حضرت ابراہیمؑ ، حضرت عیسیٰؑ ، حضرت عائشۃؓ ، جنگ بدر ، جنگ احد ، فتح مکہ ، لیلۃ القدر ...
تمام کی تمام امتیں ، مسیح الدجال ، جھوٹے نبی یعنی مسیلمہ کذاب اور العنسیٰ ، بکھرے بالوں والی ایک کالی عورت کی صورت میں آفات اور اس کے علاوہ نبی کریم ﷺ پر ہوئے جادو کی خبر بھی خواب ہی کے ذریعے دی گئی ۔
بی بی عائشہؓ کے مطابق نبی کریم ﷺ کو آنے والے خواب دن کی روشنی کی طرح سچے
ہو جایا کرتے تھے بلکہ وہ تو نبی ﷺ کے خوابوں کے بارے میں اتنی پریقین ہوتی تھیں کہ جب ان پر تہمت لگی تو وہ سوچتی تھیں کہ شاید نبی ﷺ کو اللہ ایک خواب کے ذریعے ان کی بے گناہی دکھا دے ۔
اوکے ، آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یقیناً نبی کریم ﷺ تو ایک نبی تھے ، اور ایک نبی کا خواب بھی
وحی جیسا ہی ہوتا ہے ، ان کے خواب کا ہمارے خوابوں سے کیا موازنہ ، ایک حد تک آپ کی سوچ صحیح ہے ، لیکن میں آپ کو ایک بات بتاتا ہوں ۔
وفات سے کچھ وقت پہلے جب آپ ﷺ علیل تھے ، اور اس حالت میں تھے کہ آپ کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور آپ نے حجرے کا پردہ اٹھا کر دیکھا تو لوگ حضرت
ابوبکر صدیقؓ کے پیچھے صفیں باندھے کھڑے تھے ، اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو ! میرے بعد نبوت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ، نبوت کی بشارتوں میں سے اب صرف مبشرات باقی رہیں گے ، وہ نیک خواب ، جو کوئی نیک انسان دیکھے یا کوئی دوسرا اس کے لیے دیکھے ۔
آپ کو خوابوں کی سنجیدگی کا اندازہ
ہو رہا ہے گائیز ؟ نیک خواب پر یقین وہ نصیحت ہے جو نبی ﷺ نے اپنے آخری وقت میں کی تھی ۔
اسلام میں خواب کی تین اقسام ہیں ، رویا ، حُلم اور شیطانی ۔ رویا وہ نیک خواب ہیں جو اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں ، حُلم وہ خواب جو انسان کے اپنے نفس کی طرف سے ہوتے ہیں اور شیطانی وہ خواب جو
ملعون کی طرف سے ہوتے ہیں ۔
نیک خواب یعنی کہ رویا ، حدیث شریف کے مطابق تو اسلام میں نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں ۔ یہ بات شاید آپ نے سن رکھی ہو ، لیکن کبھی یہ سوچا ہے کہ چھیالیسواں حصہ ہی کیوں ؟
نبی کریم ﷺ کی نبوت کا آغاز خوابوں کے ساتھ ہوا تھا ، تقریباً چھ ماہ کے عرصے میں آپ کو
خوابوں میں مطلع کیا جاتا تھا ، پہلی وحی کے وقت آپ کی عمر 40 سال تھی اور وحی کا سلسلہ اگلے 23 سال تک چلتا رہا جو 276 مہینے بنتے ہیں ۔ حیرت کی بات ہے کہ 276 اور 6 کی وہی ریشو ہے جو 1 اور 46 کی ہے ۔
آپ میں سے شاید اکثر لوگ یہ بات نہ جانتے ہوں کہ وہ اذان جو اس وقت چوبیس گھنٹے میں
دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں دی جا رہی ہے اور اسلام کی ایک یونیورسل پہچان ہے ، بیسکلی اس اذان کے الفاظ بھی دو اصحاب نے اپنے خواب میں دیکھے تھے ، یعنی عبداللہ بن زیدؓ اور حضرت عمرؓ حتیٰ کہ بعض اصحاب کو تو شب قدر بھی رمضان کی آخری سات راتوں میں خواب کے دوران دکھا دی گئی تھی ۔
بلکہ میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کہ نبی کریم ﷺ ہر صبح فجر کے بعد اپنے اصحاب کے ساتھ مجلس کرتے تھے اور لوگوں سے پوچھا کرتے تھے کہ کیا رات کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ اور پھر آپ ﷺ ان کی تعبیر بھی بتایا کرتے تھے ۔
لیکن خواب کی باقی دو اقسام کا کیا ؟ جو زیادہ تر ہمیں یعنی عام انسانوں
کو آتے ہیں ؟ گائیز شیطانی خوابوں کے بارے میں تو میں پہلے ہی اپنے سلیپ پیرالسیز والے تھریڈ میں بڑی تفصیل سے لکھ چکا ہوں وہ آپ وہاں سے پڑھ لیں ، لیکن حُلم ؟ وہ کیا ہوتے ہیں یا ان کی کیا طاقت ہو سکتی ہے ؟
ہماری نیند کی دو فیزز ہوتی ہیں ، ایک rem اور دوسری non-rem نیند ۔
خواب rem فیز میں وقوع پذیر ہوتے ہیں ، اس rem کا مطلب ہوتا ہے rapid eye movement ، عجیب بات یہ ہے کہ rem فیز کے دوران ہمارے دماغ کی نیورل ایکٹیویٹی اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ جیسے وہ ایک جاگتی کیفیت میں ہو ۔
خوابوں پر 45 سال پر مبنی ایک طویل ریسرچ dr. calvin hall نے کی تھی ، اس نے
پچاس ہزار خواب اکٹھے کیے اور انہیں سٹڈی کیا ، اس رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ دیکھے جانے والے خوابوں میں پریشانی ، پھر چھوڑ دیئے جانے کا خوف ، پھر غصہ ، پھر ڈر اور آخر میں خوشی ہوتی تھی ۔ اب باقی سب تو عموماً بھول جاتا تھا لیکن یاد رہ جانے والی باتوں میں عموماً ایک بات کامن تھی
کسی قدرت رکھنے والے کی طرف سے ہدایات کا دیا جانا ۔ اور اس رپورٹ کے مطابق خواب سے جاگنے والا ایسے جذبات اور سوچ محسوس کر سکتا ہے جو اس کے لیے بالکل نئی ہو ۔
لیکن کیا خواب صرف یہی کچھ ہی دکھا سکتے ہیں ؟ کیا اس کے علاوہ بھی خواب کی کوئی طاقت ہوتی ہے ؟ آپ نے کبھی کوئی ایسا خواب
دیکھا جس میں آپ اچھی طرح سے آگاہ ہوں کہ آپ خواب دیکھ رہے ہیں ؟ اب میں آپ کو حُلم خواب کے بارے میں ایک بڑی دلچسپ بات بتانے لگا ہوں ۔
میں چھوٹا سا تھا تو میں نے ایک دفعہ خواب میں ایک ریچھ کو دیکھا ، جو مجھ پر حملہ کرنا چاہتا تھا ، میں بہت ڈر گیا ، جب میں نے اپنی والدہ کو بتایا تو
انہوں نے مجھے سمجھایا کہ کوئی بات نہیں یہ صرف ایک خواب ہے ۔ عجیب سی بات یہ کہ کچھ دن بعد میں نے دوبارہ خواب میں ایک ریچھ کو دیکھا لیکن اس دفعہ ، میں خواب میں مکمل آگاہ تھا کہ یہ صرف ایک خواب ہے ، میں خواب میں ہی ادھر ادھر دیکھ بھی رہا تھا ، اپنے پاؤں کو دیکھا اور اچھی طرح جانتا
تھا کہ میرا جسم کہیں دور سویا پڑا ہے اور یہ ریچھ صرف خواب میں ڈرا رہا ہے ۔
ایسا خواب ، جس میں آپ اس بات سے آگاہ ہوں کہ آپ خواب دیکھ رہے ہیں ، وہ ایک lucid dream کہلاتا ہے ۔ لیوسڈ ڈریم اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ اگر ہم خواب میں دائیں جانب دیکھیں گے تو ہمارے پپوٹوں کے پیچھے ہماری
بند آنکھیں بھی دائیں جانب دیکھیں گی اور ہم خواب میں بائیں جانب دیکھیں تو ہماری بند آنکھیں بھی بائیں جانب مُڑیں گی ، یہ اتنی حیرت انگیز چیز ہے کہ شروع میں تو سائینس اس کے وجود پر یقین ہی نہیں رکھتی تھی لیکن پھر 80s میں dr. stephen lebarge نے سب کچھ بدل دیا ، اس نے
سٹینفورڈ یونیورسٹی میں ایک تجربہ کیا ۔
جہاں سبجیکٹ (یعنی کہ وہ شخص جس پر تجربہ کیا جا رہا تھا) کے جسم پر مختلف قسم کے الیکٹروڈز لگائے گئے اور اسے سونے دیا گیا ۔ اور ان الیکٹروڈز سے آئے سگنلز میں آپ کو اس گراف میں دکھا دیتا ہوں ، اس گراف میں چار طرح کے ڈیٹا چینلز ہیں ۔
پہلا سگنل سبجیکٹ کی دماغی ایکٹیویٹی کا ہے ، دوسرا اور تیسرا اس کی آنکھوں کی حرکت کا اور تیسرا سگنل اس کی مسلز ٹون یعنی جسمانی حرکت کا ہے ۔
پلان یہ تھا کہ سبجیکٹ نے خواب میں جانا تھا اور جب وہ لیوسڈ ہو جائے تو اس نے اپنی آنکھوں کو دائیں بائیں ہلا کر سگنل دینا تھا کہ ہاں میں
لیوسڈ ہو گیا ہوں اور پھر جاگ کر دوبارہ آنکھوں کو دائیں بائیں حرکت دینی تھی ۔ بہرحال تجربہ شروع ہوا اور یہاں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ سبجیکٹ نے آنکھیں دائیں بائیں ہلا کر کامیابی سے سگنل دیا کہ وہ لیوسڈ خواب دیکھ رہا ہے ، لیکن پھر ایک بڑی عجیب سی بات ہوئی ۔
اس نے پلان کے مطابق دوبارہ آنکھیں دائیں بائیں ہلا کر سگنل بھیجا کہ اب میں جاگ گیا ہوں حالانکہ ابھی بھی وہ سویا پڑا تھا ، البتہ کچھ ہی لمحوں بعد وہ واقعی جاگ گیا جیسا کہ آپ اس گراف میں دیکھ سکتے ہیں ۔ اس پوائینٹ پر ریسرچرز نے لیبارٹری میں جا کر سبجیکٹ سے پوچھا کہ
تم نے خواب میں کیا دیکھا اور اس کا جواب بڑا دلچسپ تھا ۔
’’جب میں نے پہلا سگنل بھیجا تب مجھے پتہ تھا کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں ، تھوڑی دیر بعد میں جاگ گیا ، اور تم لیبارٹری میں آئے اور بڑی بے رحمی سے میرے الیکٹروڈز اتارنے شروع کیے ، اور میں نے سوچا ، بڑی عجیب بات ہے ، یہ کوئی
نارمل پروسیجر تو نہیں ہے ، اور مجھے لگا کہ شاید میں ابھی بھی خواب میں ہوں ، اس لیے میں نے تھوڑی دیر انتظار کیا اور دوبارہ تمہیں سگنل بھیجا اور پھر میں جاگ گیا‘‘
لاجواب !
لیوسڈ خواب بلاشبہ خوابوں کی حیرت انگیز قسم ہے گائیز ، اس میں ہم ذائقہ چکھ سکتے ہیں ، سونگھ سکتے ہیں ...
سردی یا گرم محسوس کر سکتے ہیں لیکن کیا لیوسڈ خوابوں سے ہمارے جسم میں کوئی تبدیلی ہو سکتی ہے ؟ جسم میں کسی قسم کا کوئی اضافہ ؟ کوئی کمی ؟
آپ اس تجربے سے بھی زیادہ ایک حیرت انگیز بات سننا چاہتے ہیں ؟ ابو امامۃؓ ایک صحابی اہل باہلہ کی طرف دین کی دعوت لے کر گئے ، راستہ دور کا تھا
اور جب تک وہ وہاں پہنچے تو بھوک لگ چکی تھی ، اور اس وقت باہلہ کے لوگ بیٹھے کھانا ہی کھا رہے تھے البتہ ابو امامۃ کی دین کی باتوں نے انہیں بیزار کر دیا اور انہوں نے صحابی کو چلے جانے کا کہا ۔ ابو امامۃ نے ان سے پینے کا پانی مانگا لیکن انہوں نے انکار کر دیا ، بھوک اور پیاس کی حالت
میں وہاں سے ہٹ کر ابو امامۃ راستے میں ایک تپتی جگہ لیٹ کر سو گئے اور نیند میں انہوں نے ایک خواب دیکھا جس کے بارے میں وہ کہتے ہیں
’’مجھے دودھ جیسی کوئی چیز پلائی گئی ، لوگوں نے اس سے زیادہ لذیذ کوئی چیز نہیں پی ہو گی ، میں نے وہ ساری پی لی یہاں تک کہ میرا پیٹ بوجھل ہو گیا‘‘
جب وہ جاگے تو واقعی ان کی بھوک اور پیاس کا خاتمہ ہو چکا تھا اور ان کا پیٹ بھرا ہوا اور ابھرا ہوا بھی تھا ۔
یہ کیسا خواب تھا ؟ اس میں کیا ہوا ؟ خواب میں دیکھی گئی کوئی چیز کیسے ہمارے جسم میں خوراک بن کر جا سکتی ہے ؟ مجھے مکمل یقین ہے کہ اس پر فرائیڈ اور ڈاکٹر کلاٹ کا مختصر سا
جواب ہو گا ’’ہمیں نہیں پتہ‘‘ کیوں کہ اس لیول کے خوابوں کی کوئی تاویل ہمارے پاس نہیں ہے ۔
جب سے میں تھریڈز لکھ رہا ہوں بہت سے لوگ مجھ سے آ کر پوچھ چکے ہیں کہ فرقان ! ہم اکثر اپنے خواب میں جو جگہیں دیکھتے ہیں یا جو واقعہ دیکھتے ہیں وہ آگے چل کر ویسا ہی پورا ہو جاتا ہے ایسا کیوں ؟
کسی بھی شخص کا پہلا اندازہ یہی ہو گا کہ ایسے لوگ شاید بہت پہنچے ہوئے لوگ ہوتے ہیں لیکن مجھے ایک کتاب ملی an experiment with time جو ایک برٹش آرمی آفیسر کی لکھی ہوئی تھی ، اس کا دعویٰ تھا کہ اسے ایسے خواب آتے ہیں جو اسے آنے والے واقعات کے بارے میں آگاہ کر دیتے ہیں ، تو ذہن میں ایک
سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم جیسے کمزور ایمان والے مسلمانوں یا حتیٰ کہ غیر مسلموں کو بھی ایسے خواب آ سکتے ہیں جو مستقبل میں ہونے والی بات بتائیں ؟
آپ لوگ حضرت صفیۃؓ کے بارے میں جانتے ہیں ، یہ امہات المومنین میں سے وہ خاتون ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے خیبر کے موقع پر ازواج میں شامل کیا
اس سے پہلے وہ یہودیہ تھیں ۔ جب نبی کریم ﷺ نے خیبر کے بعد ان سے نکاح کیا تو اس وقت ان کے چہرے پر ایک نیل پڑا ہوا تھا ، جب آپ ﷺ نے ان سے پوچھا تو انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ ان کی پہلی شادی کنانہ سے ہوئی تھی جو بنو نضیر کا خزانچی تھا ، ایک رات حضرت صفیۃؓ نے خواب میں دیکھا کہ
آسمان سے چاند اور سورج ان کی گود میں آ گرے ہیں ، جب اپنا یہ خواب انہوں نے کنانہ کو بتایا تو کنانہ نے انہیں چہرے پر زور سے مارا اور پوچھا ’’کیا تم یثرب کے بادشاہ سے نکاح کرنا چاہتی ہو؟‘‘ اور یہ نیل اسی مار کا تھا ، یہاں تک کہ کچھ ہی وقت میں یہ خواب سچا ہو گیا اور خیبر کے موقع پر
حضرت صفیۃؓ یہودیت سے اسلام میں داخل ہوئیں اور نبی ﷺ کی ازواج میں شمار ہوئیں ۔
لیکن یہ ساری باتیں پڑھنے کے بعد آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہاں واقعی خواب بہت اہم ہوتے ہیں اور فرقان نے اس پر کافی زیادہ سائینٹیفیک اور روحانی دلائل دیئے لیکن ان کی تعبیر کا کیسے پتہ چلے گا ؟
یہ بتانے سے پہلے میں آپ کو ایک وارننگ دینا چاہتا ہوں گائیز کہ حدیث کے مطابق خواب کی تعبیر جب تک بیان نہ کی جائے وہ پرندے کے پیروں پر معلق ہوتی ہے ۔ اپنا خواب کسی علم والے ، کسی خیر خواہ یا کسی ذی رائے شخص کے علاوہ کسی سے نہیں بیان کرنا چاہیئے ، اور ایک دفعہ تعبیر بیان کر دی جائے
تو وہ ویسے ہی واقع ہو جاتا ہے ۔
خوابوں کی تعبیر کے متعلق مجھے سب سے زیادہ کام ساتویں صدی کے عراقی تابعی ابن سیرینؒ کی کتابوں میں ملا ، اِنفیکٹ انہوں نے 59 مختلف ٹاپکس پر خوابوں کی تعبیریں لکھی ہیں لیکن ایک بات یاد رکھیئے گا گائیز کہ تعبیر بہت سی چیزوں پر ڈیپینڈ کرتی ہے ۔
خواب کس وقت دیکھا گیا ہے ، خواب دیکھنے والا کون ہے وغیرہ وغیرہ ۔
ایک مثال میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ ایک شخص ابن سیرین کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اذان دے رہا ہوں ، اتنے میں ہی ایک دوسرا شخص بھی آیا اور اس نے بھی یہی بتایا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ
میں اذان دے رہا ہوں ۔ لیکن ابن سیرین نے پہلے شخص کو بتایا کہ تم حج کرو گے اور دوسرے کو بتایا کہ لوگ تم پر چوری کی تہمت لگائیں گے ۔
آپ دیکھ رہے ہیں ؟ بالکل ایک جیسے دو خواب لیکن دو مختلف تعبیریں ، کیوں کہ خواب دیکھنے والے دو مختلف لوگ تھے ۔
اس کے علاوہ جو خواب رات کے پہلے حصے
میں دکھائی دیں ان کی تعبیر پانچ سال تک پوری ہوتی ہے ، جو خواب رات کے درمیانی حصے میں دکھائی دیں ان کی تعبیر پانچ ماہ میں اور جو صبح کے قریب والے وقت میں دکھائی دیں ان کی تعبیر دس دن کے اندر اندر واقع ہوتی ہے ۔
اگر آپ نے میرا سارا تھریڈ پڑھا ہے تو اب تک آپ کو اتنا تو واضح ہو چکا
ہو گا کہ خواب ایک حقیقی علم ہیں اور اب ایک بات بتاؤں آپ کو کہ یہ وہ علم ہے ، جسے سب سے زیادہ چرانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ جاننا چاہتے ہیں کیسے ؟
بابل کے زمانے سے لے کر اب تک ، ہر مذہب میں خواب ، خدا سے ڈائیرکیٹ بغیر کسی ذریعے کے ، ہدایات لینے کا سورس سمجھے گئے ہیں ، اور ہر مذہب
میں اسے خدا تک پہنچنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش بھی ہوئی ہے ، نیولیتھک دور میں برازیل کے مقامی باشندے yaje (یاہے) نامی نشہ آور مشروب پی کر خود پر خواب کی سی کیفیت طاری کرنے کی کوشش کرتے تاکہ وہ لیوسڈ خواب دیکھیں اور خدا سے بات کریں ۔
افریقہ کے قبائل خاص قسم کی کھمبیاں جنہیں عام زبان میں گولڈن ہیلوس کہتے ہیں ، وہ استعمال کر کے خود کو خواب دیکھنے پر مجبور کرتے رہے ہیں ۔ ہندوازم کے رِگ وید میں مجھے suma نامی ایک ایسے مشروب کا ذکر ملا جسے پی کر لیوسڈ خواب طاری کیے جا سکتے ہیں ۔
یہودیت میں مجھے کسی ایسی نشیلی دوائی کا ذکر تو نہیں ملا البتہ ایک دفعہ انگلینڈ میں مجھے ان کے ایک تہوار kiddush کو دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا جس میں وہ گروپس کی صورت میں اکٹھے ہوتے ہیں vodka پیتے ہیں اور اس نشے کی کیفیت میں تورات کی آیات پڑھتے ہیں ۔
خوابوں کی تیسری قسم یعنی
شیطانی خوابوں کے بارے میں ، میں تفصیل سے سلیپ پیرالسیز والے تھریڈ میں لکھ چکا ہوں لیکن چونکہ خوابوں کی بات ہو رہی ہے اس لیے اس حوالے سے صرف اتنا لکھوں گا کہ ڈراؤنے اور برے خواب یقیناً ہم پر ہماری صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں ، شاید آپ ابو قتادۃؓ والے واقعے سے باخبر ہوں ۔
ابو قتادۃ کچھ ایسے خواب دیکھتے تھے جو انہیں بیمار کر دیتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ کہتے سنا کہ برا خواب دیکھنے پر بائیں طرف یعنی لیفٹ سائیڈ پر تین دفعہ تھوک دینا چاہیئے اور کروٹ بدل لینی چاہیئے اور برا خواب کسی سے بھی بیان نہیں کرنا چاہیئے ، برے اور ڈراؤنے خواب
سے بچنے کی ایک دعا بھی نبی ﷺ نے ہمیں سکھائی جس کا میں اردو ترجمہ لکھ دیتا ہوں ۔
’’میں اللہ کے مکمل کلمات کے ساتھ ، اس کے غصے سے ، اس کی سزاء سے ، اس کے بندوں کے شر سے ، شیاطین کے وسوسوں سے اور ان کی آمد سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں‘‘
آپ نے خوابوں کے متعلق میرا تھریڈ پڑھا لیکن
دو انتہائی خاص باتیں ، میں نے بالکل آخر میں کہنے کے لیے بچا کر رکھی تھیں کہ کیا ہم نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھ سکتے ہیں ؟ ابو داؤد کی حدیث 5023 کے مطابق ، جس کسی نے نبی پاک ﷺ کو ان ہی کی صورت میں دیکھا (وہ صورت کہ جو احادیث میں بتائی گئی ہے) تو اس نے نبی ﷺ ہی کو دیکھا اور وہ
عنقریب انہیں جاگتے ہوئے بھی دیکھے گا ۔
اور نیک خوابوں کے متعلق سب سے بڑی بات ، جو ان کی اہمیت اور پاکیزگی کا سب سے بڑا ثبوت ہیں وہ ترمذی کی دو احادیث ہیں 3233 اور 3234
’’میں نے خواب میں اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا ، اس نے اپنا دست شفقت میرے دونوں کندھوں کے درمیان رکھا ...
یہاں تک کہ میں نے اپنے سینے میں اس کی ٹھنڈک محسوس کی ، اور مجھے مشرق و مغرب کی تمام چیزوں کا علم ہو گیا ۔‘‘
کیا خواب میں رب ذوالجلال والاکرام ہم سے بلاواسطہ کوئی بات کرے گا ؟ اس سوال پر میرے ذہن میں بار بار سورۃ شوریٰ کی آیت 51 آ رہی ہے ...
’’کسی بشر کے لیے نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے ، سوائے وحی کے ، یا کسی پردے کے پیچھے سے‘‘
اس ترجمے کے آخری پانچ الفاظ پر غور کر رہے ہیں ؟ ’’کسی پردے کے پیچھے سے‘‘ لیکن اپنی کم علمی اور اللہ رب العزت سے اپنے خوف کے باعث میں اس پر کچھ نہیں لکھوں گا ۔
گائیز ! خواب نہ ہی مذاق ہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں غیر سنجیدہ لینا چاہیئے ، اپنی تمام تر تحقیق کے بعد میں فرقان قریشی اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ خواب ہمارے دین کا ایک بہت اہم جزو ہیں ، اور بدقسمتی سے ہم نے ان پر کوئی توجہ نہیں دی ۔ آخر میں ، صرف اتنا کہوں گا کہ خوابوں کے متعلق کبھی
جھوٹ مت بولیے گا کیوں کہ بخاری کی ایک حدیث کے مطابق سب سے بدترین جھوٹ یہ ہے کہ انسان وہ خواب بتائے جو اس نے نہ دیکھا ہو ۔
میں نے بتایا تھا کہ میں نے اس تھریڈ کی تمام تحقیق سورۃ روم کی ایک چھوٹی سی آیت 23 کو سمجھ کر کی تھی
’’اس کی نشانیاں رات اور دن کی نیند میں ہیں‘‘
مجھے یقین نہیں آ رہا کہ ان دس الفاظ میں چھپے اتنے بڑی نشانیوں نے مجھ سے سوا پانچ ہزار الفاظ کا یہ تھریڈ لکھوا دیا اور آپ یقین کریں کہ ابھی بہت سی چیزیں ایسی تھیں جو میں نے تھریڈ میں نہیں لکھیں لیکن ان شاء اللہ اپنی آنے والی کتاب میں انہیں ضرور شامل کروں گا ۔
اب اتنا کہہ کر اب تھریڈ کا اختتام کروں گا کہ انس بن مالکؓ کہتے ہیں کہ کم ہی کوئی رات ایسی گزرتی ہے ، جس کے اندر میں نے اپنے دوست محمد ﷺ کو خواب میں نہ دیکھا ہو ، اور جب انس بن مالک یہ بات کہہ رہے تھے ، اس وقت ان کی آنکھیں اشکبار تھیں ۔
اور ان کی اپنے دوست محمد ﷺ کے بارے میں یہ بات لکھتے ہوئے ایک دفعہ میں بھی ، ان کے پیارے دوست محمد ﷺ کو اپنے خواب میں دیکھنے کی دعا کرتا ہوں ۔
فرقان قریشی

جاري تحميل الاقتراحات...