میں اس تھریڈ کو تین حصوں میں تقسیم کروں گا ! پہلا حصہ میڈیکل وجوہات پر ہو گا ، دوسرا حصہ روحانی اور تیسرے حصے کے بارے میں آپ خود آگے چل کر پڑھیں گے ۔
لیکن اس سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ آپ کو اس کنڈیشن کے بارے میں تھوڑا بہت بتا دوں ۔ دنیا کے تقریباً پچاس فیصد لوگ زندگی میں
لیکن اس سے پہلے میں چاہتا ہوں کہ آپ کو اس کنڈیشن کے بارے میں تھوڑا بہت بتا دوں ۔ دنیا کے تقریباً پچاس فیصد لوگ زندگی میں
کبھی نہ کبھی اس تجربے سے ضرور گزرتے ہیں اور دس فیصد لوگ تو مستقل طور پر اس مسئلے کا شکار ہیں ۔ یہ مسئلہ ہے کیا ؟ آسان ترین الفاظ میں یہ کہ ہم نیند سے اچانک بیدار ہوتے ہیں اور ہوش و حواس میں ہونے کے باوجود اپنے جسم کو حرکت نہیں دے پا رہے ہوتے اور یہ episode دو منٹ تک رہ سکتی ہے ۔
سلیپ پیرالسز میں کبھی کبھار وہ چیزیں بھی دکھائی اور سنائی دیتی ہیں جو اس وقت آس پاس موجود نہ ہوں جیسا کہ کمرے میں کسی شخص کا نظر آنا یا کسی کے گنگنانے ، مکھیوں کی بھنبھناہٹ ، کسی جانور کے دھاڑنے یا کسی انسان کی سرگوشیوں جیسی آواز سنائی دیتی ہے ۔
اس episode کے دوران ہر انسان کا تجربہ مختلف ہو سکتا ہے لیکن سلیپ پیرالسز کی سب سے بڑی علامت ہے ’’ہوش میں ہونے کے باوجود جسم کو حرکت نہ دے سکنا‘‘
سلیپ پیرالسز کا تجربہ ہوتے ہی ہمارے ذہن میں سب سے پہلا خیال جنات کا آتا ہے اور بالکل ہماری طرح باقی دنیا کے لوگ بھی ایسا ہی سوچتے ہیں
سلیپ پیرالسز کا تجربہ ہوتے ہی ہمارے ذہن میں سب سے پہلا خیال جنات کا آتا ہے اور بالکل ہماری طرح باقی دنیا کے لوگ بھی ایسا ہی سوچتے ہیں
اور اس سے پہلے کہ میں آپ کو سلیپ پیرالسز کے بارے میں تفصیلاً بتاؤں ، آپ ذرا باقی دنیا کی سلیپ پیرالسز کے بارے میں رائے جان لیں ۔
افریقہ کے کلچر اسے ’’کمر پر بیٹھا شیطان‘‘ کہتے ہیں ، ترکی کی کہانیوں میں karabasen نامی بدروح ہمارا سانس روکتی ہے ، تھائی لینڈ کے لوگ اسے fii نامی
افریقہ کے کلچر اسے ’’کمر پر بیٹھا شیطان‘‘ کہتے ہیں ، ترکی کی کہانیوں میں karabasen نامی بدروح ہمارا سانس روکتی ہے ، تھائی لینڈ کے لوگ اسے fii نامی
شیطان کی شرارت کہتے ہیں ، چائینیز لوک کہانیوں میں اسے pinyin کہتے ہیں جس کا مطلب ہے ’’جسم کو دبانے والا‘‘ ، جاپانی اور منگول کلچر میں اسے kara darahu یعنی ’’اندھیرے والا‘‘ کہتے ہیں ،fiji کے جزائر میں kania نامی بدروح رات کو ہمارے پاس آتی ہے اور نارتھ یورپ کے ممالک میں mara نامی
ایک ملعون روح ہمارے سینے پر چڑھ بیٹھتی ہے حتیٰ کہ 2011 میں سوئیڈن نے اس پر marianne نام سے ایک فلم بھی بنائی تھی ۔ اسی لفظ mara سے انگلش لفظ nightmare یعنی ’’ڈراؤنا خواب‘‘ نکلا ہے ، ایسے ہی عرب کلچر میں یہ کیفیت ’’جاثوم‘‘ کہلاتی ہے جس کا مطلب ’’کسی چیز پر بوجھ ڈالنا‘‘ ہوتا ہے ۔
ایسے ہی ہمارے اپنے ملک پاکستان میں بھی سلیپ پیرالسز بہت زیادہ رپورٹ ہو رہا ہے ، کشمیر کی لوک کہانیوں میں اسے ghardivta کہا جاتا ہے اور عام عوام اسے ’’سایہ‘‘ کہتی ہے ۔ جبکہ جو لوگ جادو ٹونوں میں ملوث ہوتے ہیں وہ اسے ایک ’’بختک‘‘ نامی جن کا کیا دھرا مانتے ہیں ۔ لیکن شاید سب سے
زیادہ elaborate مثال مجھے افغان کلچر میں ملی جس کی مختصر کہانی یہ ہے کہ کہ یہ حرکت ’’خپاصہ‘‘ نامی شیطان کی ہے جس کے دونوں ہاتھوں میں سے انگوٹھے غائب ہیں اس وجہ سے وہ ہمارا گلا دبا پانے میں کامیاب نہیں ہوتا لیکن وہ پوری کوشش کرتا ہے کہ اپنی انگلیوں سے ہماری سانس روکنے کی کوشش کرے
لیکن کیا جنوں بھوتوں کے علاوہ بھی سلیپ پیرالسیز کی کوئی ایکسپلینیشن ہے ؟ یہ نیند ہی میں کیوں ہوتا ہے ؟ ان سب باتوں کا جواب جاننے کے لیے ہمیں پہلے نیند کو سمجھنا ہو گا اور یہیں سے میرے تھریڈ کے میڈیکل ایکسپلینیشن والے حصے کا آغاز ہوتا ہے ۔
نیند ۔۔۔ بیسکلی ہمارے جسم کے مکمل سکون میں جانے کے بعد reset ہونے کا نام ہے ، 28 اگست 2015 میں james kreuger نے نیند پر ایک رپورٹ شائع کی جس کے مطابق نیند کے دوران ہمارا جسم ایک anabolic حالت میں ہوتا ہے یعنی ہمارے جسم کا immune سسٹم ، nervous سسٹم ، skeletal سسٹم ، muscle سسٹم
اور ہمارا میٹابولزم حالت سکون یا تقریباً ٹھہراؤ میں ہوتا ہے ۔
ہم نیند کے دوران دو مختلف phases سے گزرتے ہیں ، شروعاتی فیز تو non-rem کہلاتی ہے جسے ہم پاکستانی اردو میں کچی نیند کہتے ہیں اور پھر ایک ٹرانزیشن کے بعد ہم نیند کی دوسری فیز میں چلے جاتے ہیں جو rem کہلاتی ہے ۔
ہم نیند کے دوران دو مختلف phases سے گزرتے ہیں ، شروعاتی فیز تو non-rem کہلاتی ہے جسے ہم پاکستانی اردو میں کچی نیند کہتے ہیں اور پھر ایک ٹرانزیشن کے بعد ہم نیند کی دوسری فیز میں چلے جاتے ہیں جو rem کہلاتی ہے ۔
یعنی rapid eye movement ، یہ فیز ڈیڑھ گھنٹے تک رہ سکتی ہے اور جسے میں اور آپ گہری نیند کہتے ہیں ، یہ دونوں فیزز ایک ہی نیند میں ایک کے بعد ایک کئی دفعہ آ سکتی ہیں اور یہ دونوں فیزز آپس میں ایک دوسرے سے اتنی مختلف ہیں کہ انہیں دو علیحدہ علیحدہ behaviors کے طور پر دیکھا جاتا ہے ۔
نیند کی دونوں فیزز میں سے زیادہ عجیب اور پراسرار باتیں rem فیز میں ہوتی ہیں ، اسی دوران ہمارے جسم کا درجہ حرارت بھی گر جاتا ہے ، ہمارے دل کی دھڑکن بھی بہت آہستہ ہو جاتی ہے لیکن ہمارے دماغ کے اندر ہونے والی ایکٹیویٹی اچانک ایک جاگتے ہوئے دماغ کی ایکٹیویٹی سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے ۔
اب ایک رات میں یہ دونوں فیزز ایک سے زیادہ مرتبہ آتی اور جاتی ہیں ، ایک فیز سے دوسری فیز میں داخل ہونا ٹرانزیشن کہلاتا ہے ، اور کبھی کبھی ہمارا دماغ آسانی سے ٹرانزیشن نہیں کر پاتا ، اور چار قسم کی باتیں ہو جاتی ہیں ۔
1. ہمارے دماغ کا نروس سسٹم ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے ۔
1. ہمارے دماغ کا نروس سسٹم ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے ۔
یہ وہ سسٹم ہے جو ہمارے جسم کی حرکات بھی کنٹرول کرتا ہے ، اب نیند میں چونکہ جسمانی حرکات نہیں ہو رہی ہوتیں اور دماغ ایک ’’نہ ہونے والی حرکت‘‘ کو حرکت سمجھ رہا ہوتا ہے اس لیے ہمیں یوں لگتا ہے جیسے ہم تیر رہے ہیں ۔
2. دو مزید کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں ۔
2. دو مزید کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں ۔
یہ کیفیات ہیں atonic seizure اور hypokalemic periodic paralysis ، ان دونوں کیفیات میں سب سے پہلے ہمارے مسلز متاثر ہوتے ہیں ، وہ اس قدر ڈھیلے پڑ جاتے ہیں کہ انہیں حرکت دینا ممکن نہیں ہوتا ۔ یا پھر اتنے سخت ہو جاتے ہیں کہ لگتا ہے جیسے کوئی ہمارے اس muscle کو پکڑ کر کھینچ رہا ہو ۔
اور ایک دفعہ یہ میرے اپنے ساتھ بھی نیند کے دوران ہو چکا ہے اور مجھے یوں ہی لگ رہا تھا جیسے کوئی میرے جسم کو پکڑ کر سختی سے کھینچ رہا تھا ۔
3. اچانک پیرالسز سے ہمارے دماغ کا ایمرجنسی رسپانس سسٹم ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے ، یہ وہ سسٹم ہے جو ہمیں ارد گرد کے خطروں سے آگاہ رکھتا ہے ۔
3. اچانک پیرالسز سے ہمارے دماغ کا ایمرجنسی رسپانس سسٹم ایکٹیویٹ ہو جاتا ہے ، یہ وہ سسٹم ہے جو ہمیں ارد گرد کے خطروں سے آگاہ رکھتا ہے ۔
اور اسی غیر ضروری آگاہی کی وجہ سے ہمیں اپنے آس پاس کسی کی موجودگی کا احساس ہونے لگتا ہے ۔
4. اور اگر یہ تیسری والی کنڈیشن مزید ڈیویلپ ہو جائے تو ایک بہت نایاب واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے جس کا سائینٹیفیک نام تو vestibular motor disorientation ہے لیکن عام زبان میں
4. اور اگر یہ تیسری والی کنڈیشن مزید ڈیویلپ ہو جائے تو ایک بہت نایاب واقعہ وقوع پذیر ہوتا ہے جس کا سائینٹیفیک نام تو vestibular motor disorientation ہے لیکن عام زبان میں
اسے out of body experience کہتے ہیں یعنی ہمیں یوں لگنے لگتا ہے کہ ہم اپنے جسم سے نکل کر اپنے آپ کو ہی بستر پر سویا ہوا دیکھ رہے ہیں جو بیسکلی کافی خوفناک سیچوئیشن ہوتی ہے ۔
اور یہ تھی سلیپ پیرالسز کی سائینٹیفک وجہ ، لیکن آپ سوچ رہے ہوں گے کہ فرقان نے سلیپ پرالسیز کے
اور یہ تھی سلیپ پیرالسز کی سائینٹیفک وجہ ، لیکن آپ سوچ رہے ہوں گے کہ فرقان نے سلیپ پرالسیز کے
جسمانی افیکٹ کو تو ایکسپلین کر دیا ، یہاں تک کہ کمرے میں کسی اور کی موجودگی کے احساس کی بھی ایک سائینٹیفیک وجہ بتا دی لیکن آوازیں سننے کو نہیں ایکسپلین کیا ، اور سچ کہوں گائیز ؟ مجھے ایک بھی سائینٹیفیک ریسرچ ایسی نہیں ملی جس نے آوازیں سننے کی کوئی ریزن ایبل وجہ بتائی ہو ۔
اور اسی لیے میں نے اپنی ریسرچ کو مزید بڑھایا اور اب ذرا دھیان سے پڑھیے کیوں کہ آگے ان پہیلیوں نے مزید پراسرار ہونا ہے ۔
آپ کو یاد ہے میں نے بتایا تھا کہ نیند کی فیزز میں سے rem فیز بڑی عجیب اور پراسرار خصوصیات کی حاملہ ہے ، اِنفیکٹ صرف یہی وہ فیز ہے جس میں ہم خواب دیکھتے ہیں ۔
آپ کو یاد ہے میں نے بتایا تھا کہ نیند کی فیزز میں سے rem فیز بڑی عجیب اور پراسرار خصوصیات کی حاملہ ہے ، اِنفیکٹ صرف یہی وہ فیز ہے جس میں ہم خواب دیکھتے ہیں ۔
ایک عام آدمی اپنی زندگی کے چھ سال نیند میں خواب دیکھتے گزارتا ہے اور خوابوں کی سائینٹیفیک سٹڈی oneirology کہلاتی ہے ۔
خواب کیا ہوتے ہیں ؟ آپ یقین کریں کہ یہ بذات خود ایک اتنا وسیع سبجیکٹ ہے کہ اس پر میں علیحدہ سے پانچ ہزار الفاظ کا ایک بہت دلچسپ تھریڈ لکھ سکتا ہوں لیکن فی الوقت
خواب کیا ہوتے ہیں ؟ آپ یقین کریں کہ یہ بذات خود ایک اتنا وسیع سبجیکٹ ہے کہ اس پر میں علیحدہ سے پانچ ہزار الفاظ کا ایک بہت دلچسپ تھریڈ لکھ سکتا ہوں لیکن فی الوقت
میں چاہتا ہوں کہ آپ کو خوابوں کے بارے میں کچھ بنیادی باتیں بتا دوں کیوں کہ زیادہ تر لوگ جانتے ہی نہیں کہ اسلام نے خوابوں کو کس قدر اہمیت دی ہے ۔
آپ کو پتہ ہے نہ کہ ترمذی کی حدیث پاک کے مطابق سچے خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں ؟ اس کے علاوہ مستدرک کی ایک حدیث کے مطابق
آپ کو پتہ ہے نہ کہ ترمذی کی حدیث پاک کے مطابق سچے خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہیں ؟ اس کے علاوہ مستدرک کی ایک حدیث کے مطابق
سچے خوابوں کی صورت میں بشارتوں کا ملنا ہے ، یہاں تک کہ سورۃ یوسف تو حضرت یوسفؑ کی زندگی کے خوابوں والے واقعات سے بھرپور ہے ۔ اس کے علاوہ نبی کریم ﷺ ہر صبح اپنے اصحاب سے پوچھا بھی کرتے تھے کہ کسی نے رات کو کوئی مبارک خواب دیکھا ہے تو وہ بتائے ۔
آپ کو اندازہ ہو رہا ہے کہ خواب ہماری زندگی میں کس قدر اہم رول ادا کرتے ہیں ؟ اسلام کے نظریئے سے خواب تین طرح کے ہوتے ہیں ، رویا ، حُلم اور شیطانی ۔ رویا وہ جو نیک اور روحانی خواب ہوں ، حُلم وہ جو ہماری خواہشات کا نتیجہ ہوں اور شیطانی وہ جو ملعون اور دھتکارے ہوئے کی طرف سے ہوں ۔
خوابوں کے بارے میں ذرا اس تحقیق کے بارے میں سنیئے ! 1940 سے 1985 کے درمیان یعنی 45 سالہ محنت کے بعد western state university کے dr. calvin hall نے دنیا بھر سے 50,000 خوابوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا اور ان پچاس ہزار خوابوں کو سٹڈی کر کے 45 سالہ محنت کے بعد ایک کوڈنگ سسٹم بنایا ۔
ڈاکٹر کیلوِن کی اس سٹڈی کا نام content analysis of dreams ہے جو 1990 میں پبلک ہوئی اس رپورٹ کے مطابق لوگوں نے سب سے زیادہ جو چیز رپورٹ کی وہ پریشانی تھی ، پھر دوسرے نمبر پر تنہا چھوڑ دیئے جانے کا خواب ، پھر غصہ ، پھر ڈر اور پھر آخر میں کوئی خوشی ، یعنی کہ ان تمام خوابوں میں
منفی خیالات کا پیدا ہونا زیادہ تھا اور جنسی نوعیت کے خواب صرف دس فیصد تھے ۔ البتہ اس رپورٹ کے مطابق ’’خواب کی یاد رہ جانے والی باتوں میں سے واحد بات ، کسی حکم دینے والے کی طرف سے کسی حکم کا دیا جانا تھا ۔‘‘
آپ یہاں پر ایک pattern بنتا ہوا دیکھ رہے ہیں گائیز ؟
آپ یہاں پر ایک pattern بنتا ہوا دیکھ رہے ہیں گائیز ؟
وہ یہ کہ rem فیز انسان کو ایک علیحدہ دنیا میں لے کر جا رہی ہے جہاں اسے رہنمائی مل رہی ہے ، جو اسے خواب سے جاگنے کے بعد بھی ایک لمبے عرصے تک ذہن میں رہتی ہے ، چاہے وہ جتنے مرضی پریشان کن خواب دیکھ رہا ہو لیکن یاد اسے صرف وہ رہنمائی ہی رہتی ہے ۔
اور اس فائینڈنگ نے میری ریسرچ کو ایک مکمل طور پر نیا رخ دیا ۔ کیا rem اور non rem فیز میں ڈسٹربنس ہی سلیپ پیرالسیز کی وجہ ہے ؟ کیا میڈیکل وجوہات کے علاوہ بھی کوئی وجوہات ہیں ؟ کیا کوئی ہے جو ہماری rem فیز کو جان بوجھ کر ڈسٹرب کر کے ہمیں رہنمائی سے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے ؟
کیا سلیپ پیرالسیز شیاطین جنات کی وجہ سے ہوتا ہے ؟ یا اس سے پہلی بات کہ کیا شیطان کا سوئے ہوئے انسان کے ساتھ فزیکل کانٹیکٹ کرنا ممکن ہے ؟ میری مکمل تحقیق کے بعد اس سوال کا مختصر جواب ہے ’’ہاں‘‘ ! شیاطین کا سوئے ہوئے انسان کے ساتھ فزیکل کانٹیکٹ کرنا ازل سے چلتا آ رہا ہے ۔
تب سے ، جب سے حضرت آدمؑ کا پتلا بنا تھا اور وہ چالیس سال تک بے جان پڑا رہا ، تب بھی شیطان آ کر انہیں دیکھتا تھا ، انہیں observe کرتا تھا ، پھر بخاری کی حدیث کے مطابق شیطان سوئے ہوئے انسان کے سر میں گرہیں بھی لگاتا ہے ، بخاری ہی کی ایک اور حدیث کے مطابق
شیطان انسان کے کان میں پیشاب بھی کرتا ہے ، پھر بخاری و مسلم دونوں کی ایک مشترکہ حدیث کے مطابق شیطان انسان کے ناک کے نتھنے میں رات گزارتا ہے ۔
کئی ایسی احادیث ہیں جن میں شیاطین کے رات کے اوقات سے خاص تعلق کا بھی ذکر ہے مثلاً بخاری کی روایت کے مطابق
کئی ایسی احادیث ہیں جن میں شیاطین کے رات کے اوقات سے خاص تعلق کا بھی ذکر ہے مثلاً بخاری کی روایت کے مطابق
رات کا اندھیرا پھیلنے پر اپنے بچوں کو اندر کر لینا چاہیئے اور دروازوں کو بند کر لینا چاہیئے کیوں کہ اس وقت شیاطین زمین میں پھیلنا شروع ہوتے ہیں اور پھر کئی احادیث میں شیاطین کے سوئے ہوئے انسان سے چھیڑ چھاڑ کا ذکر بھی ملتا ہے لیکن آخر کیوں ؟ سوئے ہوئے انسان میں اتنی دلچسپی کیوں ؟
اس کی دو وجوہات ہیں ! پہلی وجہ تو انسان کے خوابوں سے کھیلنا ہے ، اسے رہنمائی سے دور کرنے کی کوشش کرنا ہے ، اسے پریشان کرنا ہے اور یہ پریشانی کا لفظ میں نہیں کہہ رہا بلکہ یہ حدیث کے الفاظ ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کو بتایا کہ انہوں نے خواب میں اپنا سر کٹا ہوا دیکھا
جو آگے آگے لڑھکتا جا رہا تھا ، اور نبی ﷺ نے اسے فرمایا کہ شیطان تمہارے ساتھ کھیل رہا ہے اسے مت کھیلنے دو ۔ اور اس کی دوسری وجہ ہے کہ سوئے ہوئے انسان کا ذہنی ڈیفینس انتہائی کمزور ہوتا ہے اور اس وقت انسان کے ذہن میں خوابوں کی صورت میں شیطانی خیالات کا plant کرنا بہت آسان ہوتا ہے ۔
اور یہی وہ تیسری قسم کے خواب ہیں جسے میں نے ملعون اور دھتکارے ہوئے کی طرف سے آنے والے خواب بتایا تھا ۔
لیکن کیا rem فیز میں یا خواب میں یا سوئے ہوئے انسان کے ساتھ کمنیونیکیشن ممکن ہے ؟ اوکے ! ابھی تک میں نے آپ کو ایک خاص قسم کے خواب کے بارے میں نہیں بتایا تھا ۔
لیکن کیا rem فیز میں یا خواب میں یا سوئے ہوئے انسان کے ساتھ کمنیونیکیشن ممکن ہے ؟ اوکے ! ابھی تک میں نے آپ کو ایک خاص قسم کے خواب کے بارے میں نہیں بتایا تھا ۔
یہ قسم lucid dreaming کہلاتی ہے ۔ لیوسڈ خواب وہ ہوتے ہیں جنہیں دیکھنے والا اچھی طرح سے یہ بات جانتا ہے کہ وہ خواب دیکھ رہا ہے ۔ ایک طرح سے وہ خواب کی دنیا اور باہر کی دنیا دونوں کے کہیں درمیان میں ہوتا ہے اور وہ باہر سے کی جانے والی کمیونیکیشن کے لیے مکمل اوپن ہوتا ہے ۔
اس کا کامیاب تجربہ 12 اپریل 1975 کو dr. keith hearne نے کیا تھا جہاں اس نے لیوسڈ خواب دیکھنے والے سے کامیابی کے ساتھ کمیونیکیٹ کیا ۔ نیند کے دوران اس نے dreamer کو اپنی آنکھیں پہلے دائیں طرف اور پھر بائیں طرف گھمانے کا کہا اور dreamer نے نیند ہی میں اس کے حکم کی تعمیل کی ۔
اگر dr. keith hearne ایک ڈریمر کے ساتھ کمیونیکیٹ کر سکا تو ایسے شیاطین جنہوں نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ وہ انسان کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے سے اس پر حملے کریں گے ، تو آپ امیجن کریں کہ وہ کس حد تک ہمارے سوئے جسم کے ساتھ کمیونیکیٹ کرنے کے قابل ہیں ۔
لیکن آخر یہ کون شیاطین یا کون جنات ہیں ؟ کیا یہ کوئی خاص شیطان ہے ؟ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ فرقان بھائی یہ ’’سایہ‘‘ یا ’’اندھیرے والے‘‘ جنات دیکھنے میں کیسے ہوتے ہیں ؟ تو میرا آپ سے الٹا یہ سوال ہو گا کہ آپ جانور کو کیسے ڈیفائین کریں گے ؟ آپ نہیں کر سکتے ! کیوں کہ
ہر جانور کا anatomical makeup مختلف ہے ، آپ کسے جانور کہیں گے ؟ شیر جیسے نظر آنے والے کو ؟ زرافے جیسے نظر آنے والے کو ؟ مگرمچھ جیسے یا سانپ جیسے ؟
ہم انسانوں کا anatomical makeup تقریباً ایک جیسا ہے گائیز ، ہمارے بس نین نقش مختلف ہیں لیکن جیسے جانوروں کی مکمل فزیالوجی
ہم انسانوں کا anatomical makeup تقریباً ایک جیسا ہے گائیز ، ہمارے بس نین نقش مختلف ہیں لیکن جیسے جانوروں کی مکمل فزیالوجی
ایک دوسرے سے مختلف ہے ویسے ہی جنات اور شیاطین بھی ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں ، یہ اللہ تعالیٰ کی بہت diverse مخلوق ہے ۔
ان میں سے کچھ پرندوں کی طرح اڑتے ہیں ، کچھ چھپکلی کی طرح رینگتے ہیں ، کچھ صرف سائے کی طرح ہوتے ہیں اور کچھ جانوروں کی شکلوں جیسے ہوتے ہیں ۔
ان میں سے کچھ پرندوں کی طرح اڑتے ہیں ، کچھ چھپکلی کی طرح رینگتے ہیں ، کچھ صرف سائے کی طرح ہوتے ہیں اور کچھ جانوروں کی شکلوں جیسے ہوتے ہیں ۔
کچھ بہت بدصورت ہوتے ہیں اور کچھ اپنی خوبصورتی میں ایسے خوبصورت کہ اگر ہم انسان انہیں دیکھ لیں تو ہم خوبصورتی کا مطلب بھول جائیں ۔
مجھے یاد ہے کہ مجھے ایک خاتون نے اپنا تجربہ بتایا تھا کہ اس نے ایک ایسی حالت میں جن دیکھا جیسے ہمیں کسی گرم سطح سے حرارت اٹھتی نظر آ رہی ہوتی ہے ۔
مجھے یاد ہے کہ مجھے ایک خاتون نے اپنا تجربہ بتایا تھا کہ اس نے ایک ایسی حالت میں جن دیکھا جیسے ہمیں کسی گرم سطح سے حرارت اٹھتی نظر آ رہی ہوتی ہے ۔
بس اتنا کہ اس خاتون کو وہ حرارت پیلاہٹ مائل نظر آ رہی تھی اور وہ ایک اینرجی کی طرح تھا اور کافی لمبے قد کا تھا جو اپنی ٹانگیں سکیڑے بیٹھا تھا ۔ ایسے ہی کچھ عرصہ قبل جب میں انگلینڈ میں تھا تو میں نے اور ایک دوست نے صبح فجر سے پہلے ایک عجیب الخلقت سی مخلوق کو اس کے چاروں
ہاتھوں پاؤں پر بھاگتے دیکھا اور ہمیں یقین تھا کہ نہ ہی وہ کوئی انسان تھا اور نہ ہی کوئی جانور ۔
اس کے علاوہ ان کے جسموں کے ساتھ ساتھ ان کی خصوصیات بھی مختلف ہیں ، مثلاً سلسلۃ الصحیحۃ کی ایک حدیث کے مطابق جس رات شیاطین نے وادیوں اور پہاڑوں سے نبی کریم ﷺ کے طرف آنے کی کوشش کی تو
اس کے علاوہ ان کے جسموں کے ساتھ ساتھ ان کی خصوصیات بھی مختلف ہیں ، مثلاً سلسلۃ الصحیحۃ کی ایک حدیث کے مطابق جس رات شیاطین نے وادیوں اور پہاڑوں سے نبی کریم ﷺ کے طرف آنے کی کوشش کی تو
ان میں سے ایک شیطان ایسا تھا جس کے پاس آگ کا شعلہ تھا اور پھر حدیث کے مطابق حضرت جبرائیلؑ نے نبی کریم ﷺ کو حفاظت کے لیے ایک دعا بھی سکھائی ۔ اب میں اور آپ دونوں یہ بات جانتے ہیں کہ شیاطین تو بنے ہی آگ سے ہیں تو پھر اس کے پاس یہ کونسا آگ کا شعلہ تھا ؟ اس کی ایک تھیوری ہے میرے پاس
لیکن پھر تھریڈ بہت طویل ہو جائے گا ۔ گائیز یہ ایک بہت عجیب دنیا ہے اور ہمیں اس کے متعلق شاید آدھا بھی نہیں پتہ ، کچھ باتیں ایسی ہیں جو اگر میں آپ کو بتاؤں تو شاید آپ یقین بھی نہ کریں ، لیکن کچھ چیزیں تو ایسی ہیں کہ مجھے خود بھی نہیں پتہ کہ انہیں آپ کے سامنے کیسے ایکسپلین کروں
۔
۔
البتہ رات کے وقت ، سوئے ہوئے انسان کے قریب آنے والے شیاطین میں ایک شیطان کا ذکر مجھے بہت سی جگہ ملا ۔ اِن فیکٹ اس کا ذکر ، پچھلے ڈھائی ہزار سال کی کتابوں میں ملتا ہے ، جو بالخصوص سوئے ہوئے انسان کی طرف attract ہوتا ہے ۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ ایک male شیطان ہے جس کا نام incubus ہے ۔
اور کچھ اسے ایک female شیطانۃ بتاتے ہیں جس کا نام succubus ہے لیکن مجھے اس پر کافی زیادہ ریسرچ کرنے کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ یہ شیاطین جنات کی اس قسم میں سے ہے جو اپنی شیپ بدل سکتے ہیں یعنی یہ ہے ایک ہی شیطان لیکن میل اور فیمیل دونوں حالتوں میں سوئچ کر سکتا ہے ۔ یہ پہلی نظر میں
البتہ اس شیطان کے بارے میں بہت زیادہ تفصیلی معلومات مجھے 1487 میں شائع ہوئی ایک بدنام زمانہ کتاب میں ملیں جس کا نام malleus maleficarum ہے ، یہ ایک جرمن راہب heinrich kramer نے 1487 میں لکھی تھی اور اس کا اردو میں قریبی مطلب ہو گا ’’جادوگر کا ہتھوڑا‘‘ اور یہ شیاطین اور جادوگری پر
ان میں سے بہت سے ڈائیلاگز شیکسپیئر نے اس ہی کتاب daemonology سے لیے ہیں ۔
سوئے ہوئے لوگوں کے طرف attract ہونے والے اس شیطان کے متعلق مزید ذکر مجھے یہودی علوم کی سب سے بڑی اور مقدس کتاب ’’zohar‘‘ میں بھی ملا ، اور آپ یقین کریں کہ اس میں لکھی ڈیٹیلز اس قدر مکروہ ہیں کہ وہ میں
سوئے ہوئے لوگوں کے طرف attract ہونے والے اس شیطان کے متعلق مزید ذکر مجھے یہودی علوم کی سب سے بڑی اور مقدس کتاب ’’zohar‘‘ میں بھی ملا ، اور آپ یقین کریں کہ اس میں لکھی ڈیٹیلز اس قدر مکروہ ہیں کہ وہ میں
چاہ کر بھی اس تھریڈ میں نہیں لکھ پا رہا اور نہ ہی میں اس کی تصویر ڈال رہا ہوں ۔ یہ سچ ہے کہ شیاطین میں سے ایک خاص شیطان ہماری نیند میں آ کر ہمیں پریشان کرنا چاہتا ہے ، وہ ہمیں پریشان کن خواب دکھانا چاہتا ہے ، ہمارے ذہن میں وسوسے ڈالنا چاہتا ہے ، ہمارے جسم کے ساتھ بھی کھیلنے کی
کوشش کرتا ہے اور جو آوازیں ہمیں سنائی دیتی ہیں وہ اس ملعون ہی کے ہمارے ذہنوں کے ساتھ کھیلنے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ لیکن سب سے اہم سوال ۔ ہم اس بارے میں کیا کر سکتے ہیں ؟ ہم اپنی حفاظت کیسے کر سکتے ہیں ؟ تو اس کے دو جواب ہیں ۔ چونکہ میرے تھریڈ کا پہلا حصہ میڈیکل وجوہات پر تھا
اس لیے پہلا حل بھی میں میڈیکل سائینس سے بتاؤں گا ! جو کہ anti-depressant دوائیاں ہیں ، یعنی وہ دوائیاں جو دماغ کو سکون دیں اور آپ کو ایک گہری نیند یا ہلکے نشے کی کیفیت میں رکھیں ۔ سلیپ پیرالسیز کے زیادہ تر کیسز میں ڈاکٹر یہی ریکمنڈ کریں گے ، یہاں ایک بات یاد رکھیئے کہ
سب سے بڑی وجہ نیند میں کمی ، ڈپریشن ، جذباتی پریشانیاں اور مختلف دوائیاں ہو سکتی ہیں ۔ لیکن سلیپ پرالسیز سے متعلق ایک بہترین حل سکون آور ادویات سے کہیں زیادہ آسان ہے ۔ صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5010 ، ذرا اس حدیث کو غور سے پڑھیئے !
’’جب تم رات کے وقت بستر پر لیٹو تو آیت الکرسی پڑھ لو ، تمہارے لیے تمہارے رب کی طرف سے ایک فرشتہ حفاظت کے لیے مقرر ہو گا اور کوئی شیطان تمہارے قریب بھی نہ آ سکے گا‘‘ اور اس کے علاوہ وہ دعا ، جو حضرت جبرائیلؑ نے نبی کریم ﷺ کو سکھائی تھی ، تب جب شیاطین ان کی طرف وادیوں اور
پہاڑوں سے اترتے آ رہے تھے ، جن میں سے ایک ایسا شیطان بھی تھا جس کے پاس آگ کا شعلہ تھا ۔ میں تھریڈ کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس دعا کا اردو ترجمہ لکھ رہا ہوں لیکن بعد میں ان شاء اللہ عربی ٹیکسٹ بھی لکھ دوں گا ۔ ’’میں اللہ کے ان مکمل کلمات کی پناہ میں آتا ہوں ، جن سے کوئی نیک یا بد
تجاوز نہیں کر سکتا ، ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی اور زمین میں پھیلائی ، اور ہر اس چیز کے شر سے جو آسمان سے نازل ہوتی ہے ، اور جو آسمان میں چڑھتی ہے ، اور ہر اس چیز کے شر سے جو زمین میں پھلتی پھولتی ہے اور جو زمین سے نکلتی ہے ، رات اور دن کے فتنوں سے ، اور
رات کو آنے والے کے شر سے ، سوائے اس کے ، کہ جو خیر لے کر آئے ، اے رحمٰن ۔‘‘ آپ نے اس دعا کے آخری الفاظ پر غور کیا گائیز ، رات کو آنے والے کے شر سے ، یا اللہ ہماری حفاظت فرما ۔ یہ دعا لکھتے ہوئے مجھے اللہ پاک سے بڑی محبت محسوس ہوئی کہ کس کس جگہ وہ ہماری حفاظت کر رہا ہے ۔
جب ہم نیند میں ہوتے ہیں ، اور ہمارا ڈیفینس میکانزم نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے تب بھی اللہ پاک ہماری حفاظت کے لیے انہیں بھیج دیتا ہے جنہیں ہم نہیں دیکھتے ۔ آپ جانتے ہیں کہ مجھے اس علاج پر اتنا یقین کیوں ہے ؟ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ میرا ٹوئیٹر ہینڈل @_MuslimByChoice ہے ۔
اس کی ایک وجہ ہے گائیز ! آپ نے نیند کے متعلق پڑھا ، آپ نے خوابوں کے متعلق بھی پڑھا وغیرہ ، لیکن کبھی آپ نے قرآن کی ایک خاص آیت پر غور کیا ہے ؟ اِنفیکٹ میرا نام بھی اسی سورت پر ہے سورۃ فرقان ، ذرا اس کی آیت 47 پڑھیئے ! ’’ہم نے تمہارے لیے رات کو لباس بنایا اور نیند کو طویل آرام‘‘
آپ نے کبھی ان الفاظ پر غور کیا کہ رات ، لباس ، نیند ان سب کا آپس میں کیا تعلق ہے ؟ نیند تو دن کو بھی آ سکتی ہے لیکن آپ کو ایک عجیب بات بتاؤں ؟ ہمارے جسم کے اندر ایک بائیوکیمیکل پروسیس ہوتا ہے جسے circadian clock کہتے ہیں ، حیرت انگیز طور پر ہمارے جسم کی یہ گھڑی
سورج کے ساتھ synchronized ہے یعنی قدرتی طور پہ رات کے وقت ، ہمارے جسم کا یہ بائیوکیمیکل پراسیس ہمارے پورے جسم میں نیند کو پروموٹ کرتا ہے ، صرف دماغ میں نہیں ، پورے جسم میں ، جیسے جسم پر نیند کا ایک کپڑا لپیٹ دیا جا رہا ہو ، اور اس کی کوئی known وجہ ہمارے پاس نہیں ہے ۔
ایسا کیوں ہوتا ہے اور اس circadian rhythm کو کیا چیز ہدایات دے رہی ہے ، ہمیں بیسکلی کوئی علم نہیں ۔ کبھی آپ نے رات اور نیند کے حوالے سے قرآن کی آیات پڑھیں ؟ یقیناً پڑھی ہوں گی لیکن میری طرح شاید صرف تیس نیکیاں کمانے کے لیے ! قرآن کریم میں کم سے کم چار جگہ رات کی نیند کا ذکر ہے
بالکل ایک ہی عربی لفظ کے ساتھ ہے ’’سکون‘‘ عموماً ہمارے اردو ترجموں میں آرام اور سکون کو ہم معنی سمجھا جاتا ہے لیکن فصحیٰ عربی بولنے والے یہ بات اچھے سے جانتے ہیں کہ آرام کے لیے لفظ ’’استراحۃ‘‘ استعمال ہوتا ہے جبکہ ’’سکون‘‘ ایک ایسے آرام کا نام ہوتا ہے جس میں
ہمارا جسم ایک مکمل anabolic سٹیٹ میں ہوتا ہے ۔ اب آپ مجھے بتائیں ، کہ قرآن پاک میں اللہ رب العزت کی یہ ہائیلی ایڈوانسڈ بائیولوجی کی نشانیاں دیکھنے کے بعد میں خود کو MuslimByChoice نہ کہوں تو اور کیا کہوں ۔ آپ شاید سمجھ رہے ہوں کہ اب یہ آرٹیکل اپنے اختتام کو پہنچ گیا ہے لیکن
میں نے تو ابھی سورۃ زمر کی آیت 42 کا ذکر تک نہیں کیا جس کے مطابق نیند کے وقت روحیں ہمارا جسم چھوڑ کر چلی جاتی ہیں ۔ ہماری روحیں کہاں جاتی ہیں ؟ آپ یقین کریں کہ میں نے ابھی اس آرٹیکل میں صرف سطح کو کھرچا ہے ، سورۃ زمر کی اس آیت نے میرے سامنے تحقیق کے وہ وہ دروازے کھولے ہیں کہ
میں صرف اس ایک آیت پر ایک ایسا تھریڈ لکھ سکتا ہوں جو ہمیں ہماری اس دنیا سے ہٹ کر بالکل نئی اور انجان دنیاؤں سے متعارف کروا دے گا ۔ لیکن اب یہ آرٹیکل بھی پانچ ہزار الفاظ تک پہنچ چکا ہے ہے لہٰذا صرف اتنا کہہ کر آج کے لیے خاتمہ کروں گا کہ خدا کی قسم آج تک میں نے قرآن جیسی کوئی کتاب
نہیں پڑھی گائیز ، جس کی چھوٹی چھوٹی آیات میں بھی ہماری بائیولوجی کی اتنی بڑی بڑی سٹڈی فیلڈز چھپی ہوئی ہیں ، ان باتوں کو سوائے رب ذوالجلال کے اور کوئی لکھ ہی نہیں سکتا تھا ، یہ کام انسان کے لیے ناممکن ہے ۔
فرقان قریشی
فرقان قریشی
جاري تحميل الاقتراحات...