Furqan Qureshi
Furqan Qureshi

@_MuslimByChoice

78 تغريدة 14 قراءة Feb 24, 2023
آسمان ، زمین اور پیرالیل یونیورس ، میں اس تھریڈ کا پہلا حصہ پوسٹ کر چکا ہوں اور اس آخری حصے میں میرا زیادہ تر فوکس نظر نہ آنے والی کائینات پر ہو گا ۔ لیکن یونیورس یا کائینات آخر کہتے کسے ہیں ؟ آسان الفاظ میں جو کچھ بھی ہمیں نظر آ رہا ہے یا خلاء میں موجود ہماری طاقتور ترین مشینری
دیکھ پا رہی ہے ، وہی ہماری کائینات یا یونیورس ہے ۔ یہ اتنی وسیع اور کشادہ کائینات ہے کہ روشنی کو اسکے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچنے میں 13.8 ارب سال لگیں گے لیکن اس کے آگے کیا ہے ؟ کیا یہی کائینات چلتی جا رہی ہے یا پھر کوئی اور کائینات شروع ہو جاتی ہے ؟ اس سے پہلے میں چاہتا ہوں
کہ آپ ہماری اپنی اس کائینات کے بارے میں کچھ جان لیں ۔
سب سے پہلا سوال ! ہماری اس کائینات کی ابتداء کیسے ہوئی ؟ پہلے میں آپ کو دوسرے مذاہب کے کچھ فلسفے بتاتا ہوں ! یہودیت کے مطابق ہماری کائینات بنائی تو خدا نے لیکن ہماری زمین ایک چپٹی زمین ہے ، جو پانی پر قائم ہے ، زمین سے اوپر
آسمان میں جنت اور زمین کے نیچے جہنم ہے ۔ پھر عیسائیت کے مطابق بھی ہماری کائینات کا بنانے والا ہے تو خدا ہی لیکن عیسائیوں کے نزدیک تمام سورج ، چاند ، ستارے ہماری زمین کے گرد گردش کر رہے ہیں اور یہ سب کچھ صرف چھ ہزار سال پہلے بنا ۔ اس کے علاوہ یونانی یہ کہتے تھے کہ اینڈرومیڈا نامی
ایک دیوی آسمان میں اڑتی جاتی تھی اور جہاں جہاں وہ دودھ گراتی جا رہی تھی وہاں وہاں ایک دودھیا راستہ بنتا چلا گیا ، اور اسی نسبت سے آج بھی ہماری کہکشاں کا نام ملکی وے ہے جو یونانیوں نے رکھا تھا ۔ پھر ہندوازم ، بدھ مت اور جین کیا کہتے ہیں ؟ کہ کائینات کا نہ ہی کوئی آغاز ہے اور نہ
اختتام ، یہ ہمیشہ سے تھی اور ہمیشہ رہے گی ۔
آپ دیکھ رہے ہیں گائیز ؟ بالکل مختلف نظریات ! نتیجہ یہ ہوا کہ ایک سوچنے سمجھنے والے دماغ کو مذہب کی باتیں دیومالائی داستانیں لگنے لگ گئیں ! کیوں کہ سائینس نے تو ان سبھی نظریات پر بڑے سخت سوال اٹھا لیے ! مان لیں کہ اگر یہودیت صحیح ہے تو
جاپان میں دن اور امیرکہ میں رات کیوں ہوتی ہے ؟ مان لیں کہ اگر عیسائیت صحیح ہے تو آج سیٹلائیٹس زمین کے گرد کیسے گردش کر پا رہے ہیں ؟ اور اگر یونانی صحیح تھے تو پھر ملکی وے کے علاوہ دوسری کہکشاؤں پر ‘‘دودھ‘‘ کس نے گرا دیا ؟ اگر ہندوازم ، بدھ مت اور جین ازم سچا ہے تو ہر کہکشاں ایک
دوسرے سے اتنی تیزی سے دور کیوں جا رہی ہے ؟ انفیکٹ اتنی تیزی سے کہ اس وقت صرف ہماری ملکی وے ہی 21 لاکھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے ۔
اور پھر ان تمام فضولیات کو رد کرتے ہوئے سائینس نے انتہائی محتاط کیلکولیشنز کے ساتھ اپنا ایک نظریہ پیش کیا کہ کائینات کی شروعات ایک
دھماکہ سے ہوئی جسے بگ بینگ کہتے ہیں اور اس دھماکے کی شدت سے تمام matter علیحدہ ہوا ، اسی matter سے ستارے ، سیارے وغیرہ بنے ، زمین بنی پھر ان سب کو ملا کر بڑی بڑی کہکشائیں بنیں اور آج تقریباً چودہ ارب سال گزرنے کے بعد بھی دھماکے کا اثر باقی ہے اور تمام کہکشائیں ایک دوسرے سے تیزی
سے دور جا رہی ہیں ، کائینات آج تک پھیل رہی ہے !
البتہ ایک نظریہ ایسا ہے ، جسے سائینس چاہ کر بھی رد نہیں کر پا رہی ! آپ کو سورۃ یونس کی آیت 37 یاد ہے ؟
’’یہ کتاب ، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے‘‘
میں صرف آپ کے سامنے دو آیات رکھوں گا !
سورۃ انبیاء کی آیت 30 اور سورۃ ذاریات کی آیت 47 !
’’کیا کافروں نے نہیں جانا کہ زمین اور آسمان ملے ہوئے تھے اور ہم نے انہیں جدا کیا‘‘ اور ’’آسمان جسے ہم نے بڑی قوت سے بنایا اور ہم ہی اسے وسیع کرتے ہیں‘‘۔
بگ بینگ اور ایک expanding universe کا علم تو ہمارے رب نے ہمیں بہت پہلے
دے دیا تھا ، اور میرے تھریڈز پر جتنے ملحدین آتے ہیں انہیں ڈنکے کی چوٹ پر میرا چیلنج ہے فرقان قریشی انہیں provoke کرتا ہے کہ انہیں جھٹلا کر دکھائیں ! ان کی موت کے لیے صرف یہ دو آیات ہی کافی ہیں ۔
اب ایک سوال جو ہم سب کے ذہن میں آتا ہے کہ کائینات بننے یا بگ بینگ سے پہلے کیا تھا ؟
آپ cornell university کے dr. brian green کا وہ مقالہ پڑھیئے جس کا نام d3-brane ہے ۔ اس کی کیلکولیشنز کے مطابق بگ بینگ سے پہلے بہت سے کائیناتیں مختلف فورسز یعنی کشش ثقل وغیرہ کے درمیان تیر رہی تھیں اور ہر چند ٹریلین سالوں میں ان کے آپسی ٹکراؤ کی وجہ سے بگ بینگ ہوتا ہے ، اس کی ایک
وجہ ناقابل تصور حد تک طاقتور کشش ثقل ہو سکتی ہے یا پھر a force which is unknown to us ۔
مجھے نہیں معلوم کہ ان الفاظ یعنی a force which is unknown to us نے آپ پر کوئی اثر کیا یا نہیں لیکن یہ الفاظ لکھتے ہوئے میرے چہرے پر مسکراہٹ ضرور آ گئی ، کہ ڈاکٹر برائین جہاں لکھ رہا ہے کہ
کوئی ایسی قوت تھی جس کا نام ہمیں نہیں پتہ ، وہاں میرے ذہن میں سورۃ نحل کی آیت 40 آتی ہے
’’جس کام کو ہونا ہو ، اسے ہمارا صرف کہہ دینا کافی ہوتا ہے ، ہو جا ، اور وہ ہو جاتا ہے‘‘
ناقابل فہم اور طاقتور ترین قوت ، کن ، فیکون !
کائینات کی تخلیق کے بارے میں تو ہم نے اندازہ لگا لیا
لیکن اب ایک اگلا سوال کہ کیا ہماری دنیا ، ہماری کائینات ، ہماری reality کے علاوہ بھی کوئی دنیا ، کائینات یا کوئی alternate reality ہے ؟ جواب ہے کہ ۔۔۔ ہاں ہے !
سنہ 1952 میں erwin schrödinger نے ڈبلن میں اپنا بدنام زمانہ لیکچر دیا ۔ اور یہ کوئی تیسرے درجے کا سائینسدان نہیں ، بلکہ
نوبیل انعام یافتہ فزسسٹ تھا ! اس لیکچر میں اس نے کہا کہ جو میں کہنے والا ہوں ، ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو پاگل پن لگے ، لیکن میری کیلکولیشنز مجھے بتا رہی ہیں کہ ایک ہی واقعے کی کئی ہسٹریز ہیں جو مختلف جگہوں پر ایک ہی وقت میں وقوع پذیر ہو رہی ہیں ۔ اور اس عجیب چیز کو
کو اس نے alternate reality کا نام دیا ۔
شروڈینگر نے ایک مشہور تجربہ بھی پیش کیا جسے schrödinger’s cat کہتے ہیں ، پہلے آپ اس تجربے کے بارے میں پڑھ لیں پھر بعد میں ، میں آپ کو آسان الفاظ میں یہ کانسیپٹ سمجھاؤں گا ۔ تجربہ یہ ہے کہ ایک ڈبہ ہے ، جس میں ایک بلی بیٹھی ہے ، اس ڈبے میں
زہر کی ایک بوتل بھی موجود ہے ۔ اب جب تک ڈبہ بند ہے ، بلی کے زندہ یا مردہ ہونے کے 50/50 چانسز ہیں ، اب نارمل فزیکس کے مطابق بلی یا تو زندہ ہے ، یا مر گئی ہے ، لیکن قوانٹم فزیکس کے مطابق یہ دونوں possibilities بالکل علیحدہ علیحدہ ، سائیڈ بائے سائیڈ دو مختلف حقیقتوں اور مختلف
ڈائیمینشز میں چل رہی ہیں جہاں ایک ریئلٹی میں بلی زندہ ہے اور دوسری ریئلٹی میں مردہ اور ان دونوں ریئلٹیز کو quantum de-coherence نامی پردے نے علیحدہ رکھا ہوا ہے اور جب ہم ڈبہ کھولتے ہیں تو وہ تمام حقیقتیں اور ڈائیمینشنز ایک دوسرے پر collapse کر جاتی ہیں لہذا ہم صرف ایک حقیقت ہی کو
دیکھ پاتے ہیں جس میں بلی یا تو زندہ ہے یا مردہ ۔
میں جانتا ہوں کہ زیادہ تر لوگوں کو یہ بات سمجھ نہیں آئی ، اس لیے میں آسان الفاظ میں ایک اور مثال دیتا ہوں ! ایک سکہ لیں اور اسے ہوا میں اچھالیں ! اب میرا سوال ہے کہ ہوا میں تیزی سے گھومتے اس سکے کا ہیڈ اوپر ہے یا ٹیل ؟
یقیناً آپ کا جواب ہو گا کہ جب تک سکہ تیزی سے گھوم رہا ہے ، نہ اس کا ہیڈ اوپر ہے اور نہ ہی ٹیل اوپر ہے یہ تو ہمیں تبھی پتہ چلے گا جب سکہ ایک جگہ collapse کرے گا ۔
تیزی سے گھومتے اس سکے کی یہ پوزیشن قوانٹم فیزیکس کی زبان میں super-position کہلاتی ہے جس میں سکہ ایک ساتھ چار مختلف
ڈائیمینشنز میں گھوم رہا ہے ، دائیں بائیں ، آگے پیچھے ، اوپر نیچے اور ٹائم کی ڈائیمینشن ۔ جب تک سکہ super position میں ہے ، تب تک ہیڈ اور ٹیل دونوں پاسیبیلیٹیز ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ لیکن بالکل علیحدہ دنیاؤں میں وقوع پذیر ہو رہی ہیں جہاں ایک دنیا میں ہیڈز اوپر ہے وہیں دوسری دنیا
ٹیلز اوپر ہے ۔ البتہ سکہ رک جانے کو collapse کرنا کہتے ہیں اور اس collapse ہی سے چاروں ڈائیمینشنز اور دونوں ریئلٹیز ایک دوسرے سے مل جاتی ہیں اور ہم اپنی رئیلٹی میں یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہیڈز اوپر ہے یا ٹیل ۔ اور میں چاہتا ہوں کہ آپ ان دو الفاظ یعنی collapse اور de-coherence کو ذہن
میں رکھ لیں کیوں کہ آگے چل کر یہ بہت اہم جگہوں پر استعمال ہوں گے ۔
مجھے اندازہ ہے کہ شاید ابھی بھی بہت سے لوگ اس کانسیپٹ کو نہ سمجھے ہوں ! لیکن تھوڑا سا دھیان دیجیئے ! یاد کریں ، کہ کیا یہ کانسیپٹ آپ نے کہیں اور بھی پڑھا ہے ؟ کہ ایک چیز نظر کچھ اور آ رہی ہے لیکن ہمیں بتایا گیا
کہ اس کی حقیقت کچھ اور ہے ؟ ذرا یاد کریں ، سورۃ آل عمران 169 ؟ جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں مردہ مت سمجھو ! اپنے رب کے نزدیک وہ زندہ ہیں اور انہیں رزق بھی دیا جا رہا ہے ۔
ہم اپنے ہاتھوں سے شہداء کو دفناتے ہیں ، انہیں صاف صاف مردہ ہی دیکھتے ہیں تو پھر یہ زندہ کس دنیا
میں ہیں ؟ اگر ان کی روحوں کی بات ہو رہی ہے ، تو روحیں تو سب ہی کی زندہ ہیں اور پھر رزق دیئے جانے کا بالخصوص کیوں ذکر کیا جا رہا ہے ؟ تاکہ آپ کو یہ بتایا جائے کہ ہماری اس حقیقت ، اس ریئلٹی میں بلاشبہ وہ مردہ ہیں ، لیکن وہ کسی اور ریلٹی میں سراسر زندہ ہیں اور بالکل رزق پا رہے ہیں ۔
چلیں میں مان لیتا ہوں کہ یہ بات تو ہمارے ایمان کی ہے ! بیشک روحوں کے لیے ایک غیبی دنیا ہے جہاں انسان موت کے بعد چلا جاتا ہے لیکن شہداء کی تو زندگی کا ذکر ہے اور تھوڑا آگے چل کر میں اس پوائینٹ پر واپس آؤں گا !
فی الوقت ہم بات کرتے ہیں زندہ جسموں کی کہ کیا زندہ جسم کے ساتھ انسان
کسی دوسری دنیا ، کسی دوسری ریئلٹی یا کسی دوسری کائینات میں داخل ہو سکتا ہے ؟ اس کا جواب ہے ، ہاں !
آپ نے neil deGrass tyson کا نام سنا ہے ؟ یہ ہمارے دور کا ایک بہت بڑا ایسٹرو فزیسسٹ ہے ، اور میں آپ کو اس کے الفاظ قوٹ کرتا ہوں ۔
’’کسی دوسری دنیا میں جانے کا واحد طریقہ دونوں
دنیاؤں کے درمیان موجود کسی سرنگ یا دروازے سے ممکن ہو گا لیکن چونکہ ہمارے جسم اس دنیا کی فزکس کے قوانین کے تحت evolve ہوئے ہیں لہٰذا اگر اس دروازے کے الیکٹرانز کا چارج مختلف ہو تو وہ ہمارے جسم کو شدید نقصان پہنچائے گا ۔ اس دروازے سے گزرنے کے لیے ہمارے جسم کی بائیو کیمسٹری کا
سوٹ ایبل ہونا بہت ضروری ہے ۔‘‘
اوکے گائیز ! اسلام کی تاریخ میں ایک بہت بڑا اور بہت اہم واقعہ ہوا ہے ، اتنا اہم واقعہ کہ اس کے بارے میں سورۃ نجم 18 میں آتا ہے
’’یقیناً اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے کچھ کو دیکھا‘‘
اسراء اور معراج کا واقعہ ، اس پر میں ایک مکمل تھریڈ
علیحدہ سے بھی لکھ چکا ہوں لیکن اس وقت میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ آپ حدیث معراج کے ابتدائی الفاظ پڑھیں ، جہاں نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ میں مکہ میں تھا ، میرے پاس دو آدمی تشریف لائے اور میرے سینے سے پیٹ تک کا حصہ چاک کیا گیا ، اسے زمزم سے دھویا گیا اور میرے دل کو ایمان اور حکمت سے
بھر دیا گیا اور پھر میرے سامنے براق لایا گیا جہاں سے معراج کا سفر شروع ہوا ، پہلے آسمان کے دروازے تک پہنچ کر اسے کھلوایا گیا اور ہم پہلے آسمان میں داخل ہو گئے ۔
کیا یہاں آپ کو یہ صاف صاف نظر نہیں آ رہا کہ نبی کریم ﷺ کے جسم مبارک کو اس عظیم سفر کے لیے بالخصوص تیار کیا گیا ؟
ایک بات تو طے ہے کہ یہ سفر ہماری اس زمین یا اس کے گرد کا نہیں تھا یہ مکمل ایک مختلف عالم اور ایک alternate reality کی بات ہو رہی ہے ۔ میں نے اسے alternate reality کیوں کہا ؟ ابھی آپ سمجھ جائیں گے ۔
اموی خلیفہ ولید عبدالملک نے دمشق میں ایک مسجد تعمیر کروائی ! تعمیر کے دوران ایک
غار ملا جس میں ایک صندوق رکھا تھا ، اس صندوق میں ایک انسانی سر تھا اور صندوق پر عبارت لکھی تھی کہ یہ یحییٰ بن زکریا کا سر ہے ۔ اور ان کے سر کو دمشق کی اس ہی جامع مسجد میں تکریم کے ساتھ دفنا دیا گیا تھا جو کہ آج بھی وہاں موجود ہے ۔
حضرت یحییٰؑ ان انبیاء میں سے ہیں جنہیں شہید کر
دیا گیا تھا ۔ اِنفیکٹ gospel of luke میں ان کی بہت تفصیل لکھی ہوئی ہے جسے میں تھریڈ کو مختصر رکھنے کے لیے نہیں لکھ رہا البتہ اتنا لکھوں گا کہ یہود کے ایک بادشاہ ہیروڈ نے انہیں قید کروا دیا تھا اور دربار میں بادشاہ کی سالگرہ کی تقریب کے موقع پر ہیروڈ کی ایک رقاصہ نے اپنے انعام میں
ماں کے کہنے پر حضرت یحییٰؑ کا سر مانگ لیا تھا جس پر ہیروڈ نے حضرت یحییٰ کا قتل کروا دیا ۔ البتہ ان کے خالہ ذاد بھائی حضرت عیسیٰؑ تو زندہ و سلامت آسمان پر اٹھا لیے گئے تھے جو آج بھی زندہ ہیں اور آپ سب ہی ان کی تفصیل سے واقف ہیں ۔
شہید نبی حضرت یحییٰؑ اور زندہ نبی حضرت عیسیٰؑ جو
دونوں آپس میں خالہ زاد بھائی بھی تھے ، ان دونوں کی ملاقات اپنے اجسام کے ساتھ نبی کریم ﷺ سے دوسرے آسمان میں ہوتی ہے ۔ جو ایک بالکل علیحدہ عالم ہے ، ایک بالکل علیحدہ حقیقت ہے ، ایک alternate reality ہے ۔
آپ کی دلچسپی کے لیے بتا دوں کہ کبھی آپ نے شہید کے لفظ پر غور کیا ہے ؟
شہید کا مطلب کیا ہے ؟ ‘‘وہ شخص جو گواہ ہو‘‘ یہاں تک کہ شہید کا انگلش ترجمہ martyr بھی یونانی لفظ martur سے نکلا ہے اور اس کا بھی مطلب ’’گواہ‘‘ ہی ہے لیکن آخر کس چیز کا گواہ ؟ اس بات کا گواہ کہ ایک اور زندگی ایک اور رئیلٹی بھی ہے ، جسے وہ اپنی زندہ آنکھوں سے دیکھ رہا ہوتا ہے ۔
صحیح مسلم کی حدیث معراج 2375 میں آگے چل کر آتا ہے کہ ’’جس رات مجھے اسراء پر لے جایا گیا ، میں موسیٰؑ کے پاس سے گزرا اور وہ اپنی قبر میں نماز پڑھ رہے تھے‘‘۔
اور پھر وہی موسیٰؑ چھٹے آسمان پر ملتے ہیں ؟ اور جہاں باقی تمام انبیاء مرحبا اور خوش آمدید کہتے ہیں ، وہیں حضرت موسیٰؑ
دو موقعوں پر ایک طویل مکالمہ کرتے ہیں ؟ جہاں پہلی مرتبہ وہ رو کر ایک گفتگو کرتے ہیں ہیں اور دوسری مرتبہ وہ نمازیں کم کروانے کے لیے نو مرتبہ گزارشات کرتے ہیں ؟ ایک طرف وہ اس دنیا میں شعوری حالت میں نماز پڑھ رہے ہیں اور دوسری دنیا میں وہ شعوری حالت میں جذبات کے ساتھ رو پڑتے ہیں ؟
اگر آپ حدیث معراج کا بغور مطالعہ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ تمام آسمانوں پر تقریباً تمام انبیاء نے نبی کریم ﷺ کا مرحبا کے بعد یہ کہہ کر استقبال کیا تھا کہ آپ اچھی وسیع کشادہ جگہ پر آئے ہیں ۔ کیا یہ سات آسمان ہی مختلف دنیائیں ، پیرالیل یونورسز ، اور alternate realities ہیں ؟
ہر آسمان پر نبی کریم ﷺ کو مختلف انبیاء سے ملاقات کرائی گئی ، اور اپنی تحقیق کے دوران مجھے لگا کہ ہر نبی کو ہر ایک آسمان میں رکھنے کا ایک خاص ریزن ہے ، لیکن میرا تھریڈ رائیٹ ناؤ پانچ ہزار الفاظ کو چھونے والا ہے اس لیے اس وقت میں اس ڈیٹیلز میں نہیں جاؤں گا ۔
البتہ کچھ دن پہلے
میری ایک فالوور نے مجھ سے ایک سوال پوچھا تھا ، کہ میرا دس ماہ کا بیٹا فوت ہو گیا ہے ، فرقان آپ کچھ لکھ سکتے ہیں کہ اس کی روح کس حالت میں ہو سکتی ہے ؟ میں نے خود بھی ایک بہت قریبی جان کو اس کی صرف دو ہفتے کی عمر میں کھو دیا تھا اس لیے میں ان کا درد سمجھ سکتا ہوں ۔ اور مجھے امید ہے
کہ اس وقت وہ یہ تھریڈ پڑھ رہی ہوں گی ۔ معراج ہی کے سفر میں نبی کریم ﷺ نے ایک درخت دیکھا جس کے پتے چراغوں جیسے تھے ۔ اس درخت کے نیچے ایک بزرگ شیخ بیٹھے تھے جو حضرت ابراہیمؑ تھے ، ان کے پاس بہت سے چھوٹے بچے کھیل رہے تھے ، اور یہ وہ بچے تھے جن کی اس دنیا میں بہت ہی کم عمر میں وفات
ہو گئی ، آپ جانتے ہیں حضرت ابراہیمؑ کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بالخصوص دو جگہ پر ایک خاص حوالے سے تعریف کی ہے ۔
سورۃ توبہ آیت 114 اور سورۃ ہود آیت 75 ، دونوں جگہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ایک خاصیت بیان کی ہے کہ وہ تو بہت ہی حلیم ، نرم دل اور بہت زیادہ پیار کرنے والے تھے ۔
اگر آپ اس وقت میرے تھریڈ کو پڑھ رہی ہیں ، تو یقین کیجیئے کہ آپ کا بچے کی روح ایک بہت نرم دل ، حلیم اور پیارے بزرگ نبی کے پاس کسی آسمان ، کسی دنیا میں کھیل رہی ہے ، ایک ایسے خوبصورت درخت کی نیچے جس کے پتے چراغوں جیسے ہیں ۔
ٓسمانوں کے متعلق چند انتہائی اہم اور میرے اس تھریڈ کی
خوبصورت ترین باتیں ہیں لیکن میں انہیں تھریڈ کے آخر میں لکھنا چاہتا ہوں فی الوقت ایک سوال جو آپ سب کے ذہن میں ہو گا کہ اگر ہماری کائینات واقعی صرف ایک کائینات ہے ، اور اس کے علاوہ بھی کائیناتیں ہیں تو اگر کوئی دو کائیناتیں آپس میں ایک دوسرے پر collapse کر جائیں تو پھر کیا ہو گا ۔
سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ ہماری کائینات میں تمام کی تمام گیارہ ڈائیمینشنز موجود نہیں ہیں ۔ کیوں کہ ساتویں ڈائیمینشن ریکوائر کرتی ہے کہ آپ اس کائینات اور اس کی حدود سے باہر نکل جائیں ! لہٰذا اگر دو کائیناتیں آہستہ آہستہ آپس میں ملیں تو چند بڑے بڑے واقعات وقوع پذیر ہوں گے ۔
سب سے پہلے تو کشش ثقل یا گریوٹی ڈسٹرب ہو گی ! کیوں کہ قدرت کی چار بنیادی فورسز میں سے کشش ثقل سب سے کمزور قوت ہے اس لیے سب سے پہلے ڈسٹرب بھی یہی ہو گی ! اس مقام پر میرے ذہن میں سورۃ یٰس کی آیت 40 آتی ہے کہ
’’نہ ہی سورج کو اجازت ہے کہ چاند کو آ لے اور نہ ہی رات ، دن سے پہلے آ سکتی ہے اور سب اپنے مدار میں تیر رہے ہیں‘‘
کبھی آپ نے سوچا کہ اس آیت میں بالخصوص گریویٹی کے نازک بیلنس ہی کو کیوں ایڈریس کیا گیا ؟ کیوں کہ گریویٹی میں ڈسٹربنس ہی سب سے پہلی نشانی ہو گی کہ تمہاری تباہی شروع
ہونے والی ہے ، دو مختلف دنیائیں جو اب تک ایک دوسرے سے بالکل علیحدہ تھیں ، اب اپنی اپنی ڈائیمینشز کے ساتھ ایک دوسرے پر collapse کرنے والی ہیں ۔
آپ کو یاد ہے میں نے آپ کو دو الفاظ یاد رکھنے کا کہا تھا ؟ ان میں سے ایک لفظ ہے de-coherence quantum، زیادہ ٹیکنیکل ڈیٹیل میں جائے بغیر
صرف اتنا سمجھ لیں کہ یہ وہ پردہ ہے جو مختلف دنیاؤں اور ڈائیمینشنز کو ایک دوسرے سے علیحدہ رکھتا ہے ۔ اُدھر de-coherence ختم ہوئی اور اِدھر ڈائیمینشنز کا ایک دوسرے پر collapse شروع ہوا ۔
اس کی ایک چھوٹی سی مثال tunguska event ہے 1908 میں ہونے والے اس عجیب و غریب واقعے کو آج 113
برس گزر چکے ہیں لیکن آج تک اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ، سائیبیریا کے جنگل میں صبح 7 بجے ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں سوا دو ہزار کلومیٹر کے ریڈیئس میں درخت بالکل فلیٹ ہو کر زمین سے چپک گئے ۔ کوئی نہیں جانتا اس کی وجہ کیا تھی ، نہ ہی یہاں ریڈی ایشن کا ثبوت ملا نہ ہی
یہاں شہاب ثاقب کے ٹکڑے ملے ، کچھ بھی نہیں ، آج بھی وکی پیڈیا پر اس کا ریزن ’’probably‘‘ کے لفظ کے ساتھ لکھا ہوا ہے ۔ لیکن مین سٹریم تھیوریز میں سے ایک تھیوری یہ بھی ہے کہ وہاں پر ڈائیمینشنز کا collapse ہوا تھا ۔
جیسے جیسے ڈائیمینشز اور دو مختلف دنیائیں ایک دوسرے پر collapse کرتی
جائیں گی ؛ عجیب و غریب واقعات نمودار ہوتے جائیں گے مثال کے طور پر دو مختلف ڈائیمینشنز اور دنیاؤں کے جانداروں کا ایک دوسرے کے سامنے آجانا تو inevitable ہے ۔
آپ میں سے کتنے لوگ دابۃ الارض کے بارے میں جانتے ہیں ؟ سورۃ نمل کی آیت 82 میں ایک وحشی جانور کا ذکر ہے جو قیامت سے پہلے
نکلے گا اور لوگوں سے باتیں کرے گا ۔ محدث حضرت ابوداؤدؒ فرماتے ہیں کہ دابۃ الارض تین مرتبہ ظاہر ہو گا ۔ پہلی مرتبہ دور دراز کے جنگلوں میں اس طرح کہ لوگوں تک اس کا ذکر نہ پہنچے گا ، پھر ایک لمبے عرصے بعد اس طرح کہ لوگوں تک اسکی بات پہنچے گی لیکن مکہ تک اسکا ذکر نہ پہنچے گا ، پھر
ایک لمبے عرصے بعد اس طرح نکلے گا کہ مکہ تک بھی اس کی شہرت پہنچ جائے گی ۔ ابن ماجہ میں ہے کہ حضور ﷺ ایک دفعہ حضرت بریدۃؓ کو مکہ کے پاس ایک دور کی جگہ لے کر گئے اور ایک ویران زمین دکھائی جس کے ارد گرد ریت تھی ، اور فرمایا کہ دابۃ الارض یہیں سے نکلے گا ۔ عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں
کہ یہ مزدلفۃ کی رات کو نکلے گا اس کے چار پیر ہوں گے اس کی رفتار تیز ہو گی لیکن تین دن میں اس کے جسم کا تیسرا حصہ بھی نہ نکلا ہو گا ۔ نکلنے کے بعد یہ سیدھا مشرق کی طرف بھاگے گا اور زور سے ایسے چیخ رہا ہو گا کہ دور تک اس کی آواز جائے گی ۔ پھر اس کا رخ شام کی طرف ہو جائے گا اور وہاں
وہاں بھی اس کی چیخیں سنائی دیں گی ، اور پھر وہ صبح کے وقت عسفان پہنچے گا ۔ لیکن احادیث میں دابۃ الارض اور سورج کے درمیان ایک بہت قریبی کنیکشن بتایا گیا ہے کہ دابۃ الارض اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ، یہ دونوں ساتھ ساتھ ہوں گے ، ان میں سے جو بھی پہلے ہو دوسرا اس کے فوراً بعد ہو
جائے گا ۔ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے اور اس کا دابۃ الارض کے ساتھ کیا تعلق ہے ۔
جیسے ہماری دنیا ، ہماری رئیلٹی کا ایک سورج ہے ، بلکہ ہماری کائینات میں تو کوئی دو سو ارب پوری کی پوری کہکشائیں موجود ہیں ، تو کیا دوسری کائیناتوں میں بھی سورج ہیں ؟ کیا جہاں اس collapse سے ہماری
ریئلٹی میں دابۃ الارض داخل ہو جائے گا وہیں اس ہی collapse سے کسی اور ریئلٹی کا سورج بھی ہماری ریئلٹی میں آ جائے گا ؟ جو مغرب سے طلوع ہو کر کچھ دیر تک نظر آئے گا اور پھر واپس لوٹ جائے گا ؟ کیوں کہ حدیث میں واپس لوٹ جانے کے لفظ موجود ہیں ۔ البتہ دابۃ الارض کی تو باقاعدہ ڈسکریپشن
بھی موجود ہے کہ یہ دیکھنے میں کیسا ہو گا لیکن صرف تھریڈ کی طوالت کی وجہ سے میں اسے نہیں لکھ رہا ، صرف اتنا کہوں گا کہ اگر میں آپ کو اس کا سکیچ بنا کر دکھاؤں تو آپ خوفزدہ ہو جائیں گے ۔
اس کے علاوہ یاجوج اور ماجوج کے حوالے سے کچھ کی رائے ہے کہ وہ اس ہی دنیا میں ہیں اور ہم سے اوجھل
ہیں ، اور کچھ کی رائے ہے کہ وہ اس دنیا میں نہیں بلکہ کسی اور دنیا کے رہائیشی ہیں ، آپ جس کی بھی رائے سے اتفاق کریں ، اتنا ضرور ہے کہ وہ کسی نہ نہ کسی رکاوٹ کو توڑ کر ہماری دنیا میں آنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور ان کا ہماری دنیا میں داخل ہو جانا کسی اندیکھی رکاوٹ کے ختم ہو
جانے ہی سے ممکن ہو گا ۔
ایک بات ذہن میں رکھیئے گا کہ اس وقت میں صرف بات کر رہا ہوں دو کائیناتوں اور آٹھ ڈائیمینشنز کے collapse کی ۔ جب دو حقیقتیں اور آٹھ ڈائیمینشنز ایک دوسرے پر collapse کریں گی تو ان دونوں کائیناتوں کے تھرموڈائینامیکس اور ٹمپریچر بدل جائیں گے ، 5700 ڈگری سینٹی
گریڈ پر دہکنے والا ہمارا سورج ، اس اتنے بڑے بدلاؤ پر یکدم ٹھنڈا ہو جائے گا ، اور گریوٹی کی تہس نہس کی وجہ سے ستارے ٹھنڈے اور مختلف اجرام فلکی ادھر ادھر گرتے اور اڑتے نظر آئیں گے ۔ کائینات میں تھرموڈائینیمکس ، ٹمپریچر اور گریویٹی کے اس بدلاؤ کی تھیوری کو big freeze اور big rip
کہتے ہیں اور یہ رائل اکیڈمی آف سائینس کے lord kelvin اور dr. robert caldwell نے پیش کی تھی ۔ کائینات کے اس مقدر کے بارے میں ان دو ڈاکٹرز کی ریسرچ پڑھنے کے بعد میں نے اس تھریڈ میں تھوڑی دیر کے لیے لکھنا چھوڑ دیا تھا ۔ مجھے نہیں علم کہ آپ میری خاموشی کی وجہ سمجھیں گے یا نہیں لیکن
میری درخواست پر صرف ایک دفعہ سورۃ تکویر کھول کر صرف شروع کی دو آیات پڑھیئے ۔
’’جب سورج بے نور ہو جائے گا ، جب ستارے گر پڑیں گے ۔‘‘
میرا تھریڈ اس وقت پانچ ہزار الفاظ سے اوپر جا رہا ہے اس لیے میں یہ تو نہیں لکھوں گا کہ اگر
اگر نویں ، دسویں اور گیارہویں ڈائیمینشن بھی کولیپس کر جائیں تو پھر کیا ہو گا کیوں کہ اتنے طویل تھریڈ کو پھر آپ نے پڑھنا نہیں ہے لیکن کچھ دیر پہلے میں نے تھریڈ کے آخر میں چھٹے اور ساتویں آسمان کے متعلق کچھ لکھنے کے بارے میں وعدہ کیا تھا ۔
ایک حدیث کے مطابق ہر آسمان ، دوسرے آسمان کے مقابلے میں جسامت میں ایسا ہے کہ صحراء میں کوئی انگوٹھی پڑی ہو ۔ یہ وسعتیں اتنی بڑی ہیں کہ نہ ہی فرقان قریشی آپ کو سمجھا سکتا ہے ، اور نہ ہی آپ سمجھ سکتے ہیں ۔ البتہ ایک سوال آپ کے ذہن میں پیدا ہو رہا ہو گا کہ اگر یہ سب اتنا عظیم ہے ،
اتنا بڑا ہے ، تو یہ سب آخر ہے کہاں ؟ ڈونٹ وری ، یہی سوال ایک دفعہ پہلے بھی پوچھا گیا تھا ۔ رومی بادشاہ heraclius کے پاس جب نبی کریم ﷺ کا خط پہنچا تو اس نے یہ سوال کیا کہ آپ مجھے اس جنت کی طرف بلا رہے ہیں جو آسمانوں اور زمین کے برابر ہے تو مجھے بتایئے کہ پھر جہنم کہاں گئی ؟
اس پر نبی کریم ﷺ نے جواب بھیجوایا کہ جب دن آتا ہے تو رات کہاں چلی جاتی ہے ؟ اس جواب پر ہراکلیس کے دربار میں موجود یہود علماء پر خاموشی چھا گئی لیکن پھر بھی اپنی ڈھٹائی میں بولے کہ ضرور اس بات کو آپ لوگوں نے تورات سے لیا ہو گا ۔
حدیث معراج میں چھٹے آسمان پر نبی کریم ﷺ نے کچھ
نہایت عظیم مشاہدات کیے تھے ۔ وہاں ایک بیری کا درخت ہے ، جس کا نام سدرۃ المنتہیٰ ہے ۔ یہ ایک عظیم الشان درخت ہے جس کے جڑیں چھٹے آسمان میں اور شاخیں ساتویں آسمان میں ہیں ، اس کے پتے بڑے بڑے اور پھل مٹکوں جیسے ہیں ، اس درخت پر سونے سے بنے پروانے منڈلا رہے ہیں اور نبی کریم ﷺ نے
فرمایا کہ جب اسے اللہ کے حکم نے ڈھانپا تو اس درخت کے رنگ ایسے بدلے کہ میں ان رنگوں کو نہیں جانتا ، دنیا کی کوئی مخلوق اس کی خوبصورتی بیان نہیں کر سکتی ۔ سدرۃ المنتہیٰ ہی بلندی کی انتہا ہے ، نیچے سے جو جاتا ہے وہ یہیں پر روک لیا جاتا ہے اور جو اوپر سے آتا ہے وہ یہیں سے وصول کیا
جاتا ہے ۔ یہی مخلوق کے علم کی انتہا ہے ، یہاں سے اوپر کیا ہے ، ہمیں اس کا کوئی علم نہیں اور نہ ہی اس کی خبر ہے ، بس ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ وہیں رب تعالیٰ کا عرش ہے ۔ اور عرش کیا ہے ؟ یہ بات کوئی نہیں جانتا ۔
سدرۃ المنتہیٰ کے قریب ہی وہ موقع تھا جب نبی کریم ﷺ نے حضرت جبرائیلؑ
کو دوسری مرتبہ ان کی اصل حالت میں دیکھا اس حالت میں کہ ان کے چھ سو پر تھے جنہوں نے تمام افق کو ڈھانپا ہوا تھا اور ان کے عظیم پروں سے موتی زمرد اور یاقوت جھڑ رہے تھے اور ایک روایت میں ہے کہ جب جبرائیلؑ کو ورائے حجاب رب ذوالجلال کی موجودگی کا احساس ہوا تو وہ وہیں سجدے میں گر پڑے ۔
میں صرف اتنا کہوں گا کہ میرے دل و دماغ میں جو منظر ان آخری دو پیراگراف نے بنایا کہ ایک عظیم الشان درخت جس کی جڑیں چھٹے آسمان اور شاخیں ساتویں آسمان میں ہوں ، اس کے رنگوں اور اس کی خوبصورتی کو دنیا کی کوئی مخلوق نہ بیان کر سکتی ہو ، اس پر سونے کے پروانے منڈلا رہے ہوں اور وہاں ایک
عظیم الشان چھ سو پروں والا بزرگ فرشتہ ہمارے واحد معبود ، ہمارے رب تعالیٰ اللہ ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہو ۔۔۔
میں نے کبھی اپنی تینتیس سالہ زندگی میں اس قدر طاقتور اور اس قدر خوبصورت منظر شاید کبھی تصور نہیں کیا ۔
فرقان قریشی

جاري تحميل الاقتراحات...