لیکن کیا یہ سب ممکن بھی ہے ؟ اور مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا مذہب کیا کہتا ہے ؟ آج کا تھریڈ اس ہی بارے میں ہے ۔
ٹائم ٹریول کو سمجھنے سے پہلے ایک بنیادی بات سمجھ لیں ، ہم ، یعنی کہ انسان اور ہماری کل کائینات چار ڈائیمینشنز کے اندر قید ہے ۔ ان میں سے تین ڈائیمینشنز پر ہم اثر انداز
ٹائم ٹریول کو سمجھنے سے پہلے ایک بنیادی بات سمجھ لیں ، ہم ، یعنی کہ انسان اور ہماری کل کائینات چار ڈائیمینشنز کے اندر قید ہے ۔ ان میں سے تین ڈائیمینشنز پر ہم اثر انداز
ہو سکتے ہیں یعنی ہم آگے اور پیچھے حرکت کر سکتے ہیں ، اوپر اور نیچے آ جا سکتے ہیں اور دائیں اور بائیں ہِل جُل سکتے ہیں ۔ یہ تین اطراف کی حرکت تین ڈائیمینشنز یا 3D کہلاتی ہے ، ہماری تمام تر حرکات صرف ان تین ڈائیمینشنز کے اندر قید ہیں ۔ لیکن چوتھی ڈائیمینشن جسے ہم صرف دیکھ سکتے ہیں
وہ ہے وقت ، جو ہماری آنکھوں کے سامنے گزر رہا ہے ۔ تو کیا ہم اس چوتھی ڈائیمینشن پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں ؟ جواب ہے ، ہاں ۔
ٹائم ٹریول کی صرف تین ہی ڈائیریکشنز یا سمتیں ہو سکتی ہیں ۔ ماضی ، حال اور مستقبل ، میں آپ کو سب سے پہلے آسان سی ڈائیریکشن سے سمجھانا شروع کرتا ہوں ۔
ٹائم ٹریول کی صرف تین ہی ڈائیریکشنز یا سمتیں ہو سکتی ہیں ۔ ماضی ، حال اور مستقبل ، میں آپ کو سب سے پہلے آسان سی ڈائیریکشن سے سمجھانا شروع کرتا ہوں ۔
مستقبل ۔ مستقبل میں سفر کرنا شاید سب سے آسان ہے ، اِن فیکٹ اس وقت بھی ہم مستقبل ہی میں سفر کر رہے ہیں ۔ ایک سیکنڈ پہلے آپ ماضی میں تھے ، اور ایک سیکنڈ بعد آپ مستقبل میں ہوں گے ۔ لیکن کیا کچھ دن ، کچھ سال یا کچھ صدیاں آگے جایا جا سکتا ہے ؟
ہاں ، جایا جا سکتا ہے اور اس کے لیے آپ
ہاں ، جایا جا سکتا ہے اور اس کے لیے آپ
کو تین چیزوں کی ضرورت ہو گی ۔ دو ورم ہولز اور ایک ایسی مشین جو روشنی کی رفتار پر سفر کر سکے ۔ ورم ہولز کیا ہوتے ہیں ؟ بجائے پوری ٹیکنیکل ڈیٹیلز سمجھنے کے آپ آسان زبان میں ایک دروازہ کہہ لیں ، لیکن ایک انتہائی غیر معمولی دروازہ ۔ مثال کے طور پر ایک دروازہ آپ کے کمرے میں لگا ہے اور
دوسرا دروازہ آپ کے دفتر میں ۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ آپ کمرے کے دروازے سے نکلے ہوں اور دفتر کے دروازے سے داخل ہوئے ہوں ؟ نہیں نا ؟ لیکن اگر یہ دونوں دروازے آپس میں کنیکٹ ہوئے ورم ہولز ہوتے ، تو بالکل ایسا ہی ہوتا ۔
آپ نے آج کی تاریخ یعنی 2021 میں دو ورم ہول دروازے لیے ، اور ان
آپ نے آج کی تاریخ یعنی 2021 میں دو ورم ہول دروازے لیے ، اور ان
میں سے ایک کو روشنی کی رفتار یعنی تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے کہیں بہت دور بھیج دیا ۔ اور یہ ہماری ٹائم مشین تیار ہے ۔ اب مستقبل میں جانے کے لیے آپ کو صرف ایک قدم اٹھانا ہے ۔ اپنے اس پیچھے رہ جانے والے ورم ہول دروازے میں داخل ہونا اور واپس باہر آ جانا ہے ، اور صرف ان
چند قدموں کے دوران ، یہاں دنیا پر کئی سال بیت چکے ہوں گے ۔
کتنے سال بیت چکے ہوں گے ؟ یہ ڈیپینڈ کرتا ہے کہ ہم نے ورم ہول دروازے کو کتنی رفتار سے اور کتنی دور بھیجا ہے ؟ روشنی کی رفتار پر سفر کرتے ورم ہول دروازے کے ہر گھنٹے کے مقابلے میں زمین پر 223 سال گزر چکے ہوں گے ۔
کتنے سال بیت چکے ہوں گے ؟ یہ ڈیپینڈ کرتا ہے کہ ہم نے ورم ہول دروازے کو کتنی رفتار سے اور کتنی دور بھیجا ہے ؟ روشنی کی رفتار پر سفر کرتے ورم ہول دروازے کے ہر گھنٹے کے مقابلے میں زمین پر 223 سال گزر چکے ہوں گے ۔
اب مستقبل میں ٹائم ٹریول کے حوالے سے ہمارا دین کیا کہتا ہے ؟ گائیز آپ کو واقعہ معراج یاد ہے ؟ آپ کو یاد ہے براق کس رفتار سے سفر کر رہا تھا ؟ کیا وہ روشنی کی رفتار جیسی رفتار نہیں تھی ؟ ویسے تو واقعہ معراج سارے کا سارا ٹائم ٹریول کو ایکسپلین کرتا ہے لیکن مستقبل میں ٹائم ٹریول کے
حوالے سے حدیث معراج کا ایک خاص حصہ میری توجہ کا مرکز بنا جہاں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے ’’جہنم میں جھانکا تو وہاں فلاں لوگ زیادہ تھے‘‘ یا جب میں نے ’’جنت میں جھانکا تو وہاں فلاں لوگ زیادہ تھے‘‘ ۔ کیا یہ روشنی جیسی رفتار سے سفر کر کے مستقبل کے واقعات میں جھانکنا نہیں تھا ؟
مستقبل کے بعد ٹائم ٹریول کی دوسری شکل ہے ’’حال‘‘ اگرچہ تیکنیکی اعتبار سے یہ سفر نہیں ہو گا لیکن حال میں آپ وقت کو آہستہ ضرور کر سکتے ہیں ، یہ چیز انگلش میں time dilation کہلاتی ہے ۔ آپ کوئی بھی سیارۃ یا ستارہ لے لیں ، جیسے جیسے اس کی کشش ثقل بڑھتی جائے گی اس کے گرد وقت گزرنے کی
رفتار آہستہ ہوتی جائے گی ۔ چلیں میں آپ کو مزید آسان الفاظ میں سمجھا دیتا ہوں ۔
جب آپ اپنی چھت سے کوئی چیز نیچے زمین پر پھینکتے ہیں تو وہ 32 فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے نیچے گرتی ہے ، یہ ہماری زمین کی کشش ثقل ہے اور یہ ایک یعنی 1G کے برابر ہوتی ہے ۔ لیکن سورج ہم سے کئی گنا بڑا ہے .
جب آپ اپنی چھت سے کوئی چیز نیچے زمین پر پھینکتے ہیں تو وہ 32 فٹ فی سیکنڈ کی رفتار سے نیچے گرتی ہے ، یہ ہماری زمین کی کشش ثقل ہے اور یہ ایک یعنی 1G کے برابر ہوتی ہے ۔ لیکن سورج ہم سے کئی گنا بڑا ہے .
اور اس کی کشش ثقل ہم سے اٹھائیس گنا زیادہ طاقتور یعنی 28G ہے ۔ اب سورج کے گرد گھومتی ہماری دنیا کا دن تو 24 گھنٹے کا ہوتا ہے ، تو کیا سورج سے زیادہ کشش ثقل رکھنے والے بھی موجود ہیں ؟ ہاں ہیں ، صرف ہم سے 1500 نوری سال کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا بلیک ہول ہے جسے سائینسدان
پیار سے unicorn کہتے ہیں ۔ اس کی کشش ثقل سورج سے تین گنا زیادہ طاقتور یعنی 84G ہے اور اسکے گرد وقت اتنا آہستہ ہے کہ اس کے گرد گھومتے سیارے پر ایک سال ہماری زمین کے ساڑھے آٹھ سالوں کے برابر ہو گا تو کیا یونی کورن سے بھی طاقتور بلیک ہولز موجود ہیں جو اپنے گرد ٹائم کو آہستہ کر دیں ؟
گائیز ! آج تک ہم نے جو سب سے طاقتور ، سب سے بڑا بلیک ہول آبزرو کیا ہے اس کی کشش ثقل 153 ٹریلین G ہے اور اس کا سائیز تقریباً ہمارے پورے نظام شمسی جتنا ہے ۔ اور اس کے گرد وقت کی رفتار تو ورچوئیلی رکی ہوئی ہے ۔
اب سوال یہ کہ ہمارا مذہب ٹائم ڈائیلیشن کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟
اب سوال یہ کہ ہمارا مذہب ٹائم ڈائیلیشن کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟
کیا قرآن میں کم سے کم دو جگہ نہیں بتایا گیا کہ تمہارے رب کا ایک دن تمہارے پچاس ہزار سال کے برابر ہے ؟ اور مسند احمد کی احادیث میں جنتیوں کا ذکر ہے کہ وہ جنت میں 33 سال کی عمر میں داخل ہوں گے اور ان کی عمریں بڑھیں گی نہیں (آپ کی دلچسپی کے لیے مزید بتا دوں کہ ان ہی احادیث میں ذکر
ہے کہ جنتی گھنگھریالے بالوں ، سفید رنگتوں اور سرمئی آنکھوں کے ساتھ ہوں گے)
تو کیا ہماری اس دنیا میں ٹائم ڈائیلیشن ممکن ہے ؟ آپ کو جان کر حیرت ہو گی کہ اِن فیکٹ ایسا ہو بھی چکا ہے ۔ سلسلۃ الصحیحۃ اور مسند احمد کی احادیث میں ذکر ہے کہ سورج کو رکنے کا حکم صرف ایک شخص کے لیے ہوا ہے
تو کیا ہماری اس دنیا میں ٹائم ڈائیلیشن ممکن ہے ؟ آپ کو جان کر حیرت ہو گی کہ اِن فیکٹ ایسا ہو بھی چکا ہے ۔ سلسلۃ الصحیحۃ اور مسند احمد کی احادیث میں ذکر ہے کہ سورج کو رکنے کا حکم صرف ایک شخص کے لیے ہوا ہے
اور وہ یوشع بن نون تھے جب وہ فلسطین جا رہے تھے ۔ یعنی دوسرے الفاظ میں ، حضرت یوشع بن نون کے لیے اس ہی دنیا میں وقت تھما یا time dilation ہوئی تھی ۔
اب آتے ہیں ٹائم ٹریول کی اُس سمت کی طرف جس کے جاننے کا آپ سب کو بہت شوق ہے یعنی کہ ماضی کا سفر ۔ ماضی میں ٹائم ٹریول کرنے کے دو
اب آتے ہیں ٹائم ٹریول کی اُس سمت کی طرف جس کے جاننے کا آپ سب کو بہت شوق ہے یعنی کہ ماضی کا سفر ۔ ماضی میں ٹائم ٹریول کرنے کے دو
طریقے ہیں جن میں سے تھریڈ کی طوالت کے باعث میں صرف ایک کے بارے میں لکھوں گا ۔
سنہ 1952 میں ڈبلن میں ایک لیکچر ہوا ، لیکچر دینے والا شخص دنیا کا جانا مانا نوبل انعام یافتہ فزسسٹ erwin schrodinger تھا ، آپ ذرا ان آگے کی سطروں میں اس کے لیکچر کے شروعاتی الفاظ پڑھیئے
سنہ 1952 میں ڈبلن میں ایک لیکچر ہوا ، لیکچر دینے والا شخص دنیا کا جانا مانا نوبل انعام یافتہ فزسسٹ erwin schrodinger تھا ، آپ ذرا ان آگے کی سطروں میں اس کے لیکچر کے شروعاتی الفاظ پڑھیئے
’’اب جو میں آپ کو بتانے والا ہوں ، ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو پاگل پن لگے ، لیکن میری کیلکولیشنز مجھے یہ بتا رہی ہیں کہ ہماری ایک سے زیادہ ہسٹریز ہیں ، اور وہ سب کی سب مختلف جگہوں پر ایک ساتھ وقوع پذیر ہوئی ہیں‘‘
آسان الفاظ میں اروین کا کہنا یہ تھا کہ ہماری زندگی کی کہانی مختلف
آسان الفاظ میں اروین کا کہنا یہ تھا کہ ہماری زندگی کی کہانی مختلف
جگہوں پر دہرائی جا رہی ہے اور یہ دونوں جگہیں ایک دوسرے سے پردے میں ہیں ۔ اور اگر کسی طرح یہ پردہ ہٹ جائے ، تو ہم دوسری زندگی کے کسی پرانے پوائینٹ پر یا اس کے ماضی میں واپس جا سکیں گے ۔
آپ جانتے ہیں کہ مجھے بالخصوص اس تھیوری میں اتنی دلچسپی کیوں ہوئی ؟ آپ کو قرآن کا وہ واقعہ
آپ جانتے ہیں کہ مجھے بالخصوص اس تھیوری میں اتنی دلچسپی کیوں ہوئی ؟ آپ کو قرآن کا وہ واقعہ
یاد ہے جس میں حضرت موسیٰؑ ایک شخص سے ملتے ہیں جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا تھا کہ ہم نے اسے اپنے علوم میں سے ایک علم دیا تھا ۔ حضرت موسیٰؑ اس کے شخص کے ساتھ سفر پر ہو لیتے ہیں اور وہ شخص راستے میں ایک لڑکے کو قتل کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے ڈر ہے کہ جب یہ بڑا ہوتا تو اس کے
کفر کی وجہ سے اس کے ماں باپ فتنے میں مبتلا ہو جاتے ۔
آپ نے کبھی اس پورے واقعے کے اس اہم پوائینٹ کے بارے میں سوچا ہے ؟ وہ کیا علم تھا جو اللہ نے ان شخص کو عطاء فرمایا تھا ؟ اگر وہ وحی ہوتا تو حضرت موسیٰؑ خود بھی پیغمبر تھے وحی تو ان کے پاس بھی آتی تھی ، وحی تو کیا ، حضرت موسیٰؑ
آپ نے کبھی اس پورے واقعے کے اس اہم پوائینٹ کے بارے میں سوچا ہے ؟ وہ کیا علم تھا جو اللہ نے ان شخص کو عطاء فرمایا تھا ؟ اگر وہ وحی ہوتا تو حضرت موسیٰؑ خود بھی پیغمبر تھے وحی تو ان کے پاس بھی آتی تھی ، وحی تو کیا ، حضرت موسیٰؑ
پر تو پوری تورات نازل ہوئی تھی ، بلکہ تورات بھی کیا حضرت موسیٰؑ تو وہ واحد شخص ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے بذات خود کلام فرمایا تھا ۔
تو پھر ایسا کیا علم تھا جس کے بارے میں حضرت موسیٰؑ کو بتایا گیا کہ جو علم آپ کے پاس ہے وہ ان کے پاس نہیں ، لیکن جو علم ان کے پاس ہے وہ آپ کے
تو پھر ایسا کیا علم تھا جس کے بارے میں حضرت موسیٰؑ کو بتایا گیا کہ جو علم آپ کے پاس ہے وہ ان کے پاس نہیں ، لیکن جو علم ان کے پاس ہے وہ آپ کے
پاس نہیں ، وہ علم جس نے انہیں بتا دیا تھا کہ فلاں لڑکے نے بڑے ہو کر اپنے والدین کو فتنے میں مبتلا کرنا ہے ، یا فلاں کشتی کو آگے چل کر فلاں بادشاہ ضبط کر لے گا ، یا فلاں لڑکوں کا خزانہ دیوار کے نیچے دفن ہے اور انہوں نے آگے چل کر اس خزانے کو نکالنا ہے ۔ گائیز ، اس واقعے کو آپ ماضی
میں ٹائم ٹریول کو تسلیم کیے بغیر ایکسپلین کر ہی نہیں سکتے ۔
اروین شورڈینگر نے کہا تھا نہ کہ میری کیلکولیشنز کے مطابق مختلف دنیائیں ایگزسٹ کرتی ہیں جہاں ہماری ایک اور زندگی سائیڈ بائے سائیڈ چل رہی ہے ۔ دنیا میں کئی ایسی چیزیں ملی ہیں جن کی کاربن ڈیٹنگ سے پتا چلا کہ وہ ہزاروں
اروین شورڈینگر نے کہا تھا نہ کہ میری کیلکولیشنز کے مطابق مختلف دنیائیں ایگزسٹ کرتی ہیں جہاں ہماری ایک اور زندگی سائیڈ بائے سائیڈ چل رہی ہے ۔ دنیا میں کئی ایسی چیزیں ملی ہیں جن کی کاربن ڈیٹنگ سے پتا چلا کہ وہ ہزاروں
بلکہ لاکھوں بلکہ چند چیزیں تو کروڑوں سال پرانی ہیں اور اپنے زمانے میں ان کا وجود ہونا ناممکن تھا ۔ ذرا london hammer لکھ کر گوگل سرچ کیجیئے ، بار بار کاربن ڈیٹنگ کرنے سے بھی اس ہتھوڑے کی عمر 4 کروڑ سال نکلتی ہے ، جو ناممکن ہے ۔ ذرا antikythera mechanism لکھ کر گوگل کیجیئے ۔
ڈھائی ہزار سال پرانی دھات کی گراری ، جیسے موٹر سائیکل کی زنجیر کی گراری ہوتی ہے ۔ درجنوں دفہ کاربن ڈیٹنگ کرنے پر بھی ایک ہی جیسا نتیجہ ، ایسی سینکڑوں چیزیں دریافت ہو چکی ہیں جن کا وجود ان کے زمانے میں ناممکن تھا ۔
تو کیا واقعی مختلف دنیاؤں میں کچھ چیزیں اِدھر یا اُدھر ہوئی ہیں ؟
تو کیا واقعی مختلف دنیاؤں میں کچھ چیزیں اِدھر یا اُدھر ہوئی ہیں ؟
کیا دوسری دنیاؤں کا وجود ناممکن ہے ؟ کیا قرآن میں ہمیں نہیں بتایا گیا کہ سات آسمان ہیں اور ایسے ہی (سات) زمینیں بھی ؟ کیا ٹھیک اس وقت ، رائیٹ ناؤ ، امیرکہ کی oak-ridge لیبارٹری (tennessee) میں تجربہ نہیں کیا جا رہا ؟ جس میں 85 میگاواٹ نیوکلیئر ری ایکٹر سے اربوں کی تعداد میں
نیوٹران نامی ذرات فائیر کیے جا رہے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ دوسری نظر نہ آنے والی دنیا کا دروازہ کھل جائے ۔
آپ کو یاد ہے میں نے شروع میں کہا تھا کہ ہم اور ہماری کُل کائینات صرف چار ڈائیمینشنز میں قید ہیں ۔ یہ ہماری حدود ہیں ، لیکن اب میں آپ کو ایک انتہائی عظیم آیت سناتا ہوں
آپ کو یاد ہے میں نے شروع میں کہا تھا کہ ہم اور ہماری کُل کائینات صرف چار ڈائیمینشنز میں قید ہیں ۔ یہ ہماری حدود ہیں ، لیکن اب میں آپ کو ایک انتہائی عظیم آیت سناتا ہوں
’’اے جنات اور انسانوں کے گروہو ! اگر تم زمین اور آسمان کی حدود سے نکل سکتے ہو تو نکل جاؤ ، تم نہیں نکل سکو گے ، سوائے ہماری اجازت کے‘‘
الرحمٰن 33
گائیز ! اس آیت سے زیادہ وضاحت اور کیا ہو گی ، یقیناً ہماری حدود سے باہر بہت سی دنیائیں ہیں ، اور اگر ہمیں اللہ کی وہ ایکسپریس اجازت
الرحمٰن 33
گائیز ! اس آیت سے زیادہ وضاحت اور کیا ہو گی ، یقیناً ہماری حدود سے باہر بہت سی دنیائیں ہیں ، اور اگر ہمیں اللہ کی وہ ایکسپریس اجازت
مل جائے ، وہ علم مل جائے جو اس نے اپنے اس خاص بندے کو عطا فرمایا تھا تو ماضی ، حال ، مستقبل کا کوئی سفر ناممکن نہیں ۔ اگر میرا تھریڈ دو ہزار الفاظ کو نہ چھو رہا ہوتا تو میں اس پر اور بھی بہت کچھ لکھتا مثلاً اگر ہم ماضی میں سفر کر کے خود سے ملیں تو کیا ہو گا اور چند مزید پیراڈاکسز
وغیرہ لیکن بس یہ کہہ کر اختتام کروں گا کہ ٹائم ٹریول سائینس فکشن نہیں رہا صرف ہماری ٹیکنالوجی اس کو سمجھنے کے لیے ناکافی ہے ، البتہ ہمارا مذہب ، ہمارا دین ، ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہی ہمیں اس کے بارے میں بتا چکا ۔
فرقان قریشی
(بلا اجازت کاپی اور کہیں اور پوسٹ کرنے سے اجتناب کریں)
فرقان قریشی
(بلا اجازت کاپی اور کہیں اور پوسٹ کرنے سے اجتناب کریں)
جاري تحميل الاقتراحات...