10 تغريدة 13 قراءة Jul 03, 2023
#فیروزوالہ_زمینیوں_کی_پراسراریت
عمران خان نےاپنی اہم ترین جائیدادوں میں سےایک
پاکستان کےدوسرےبڑے دارالحکومت لاہور کےمضافات میں واقع ایک قیمتی زمین کو تقریباْ پانچ سال تک چھپائےرکھا اور بعد میں غلط بیانی کرتےہوئے اپنےانکم ٹیکس گوشواروں میں #وراثتی_جائیداد کیطور پر ظاہر کیا
👇1/10
پاکستان میں اعلیٰ عدلیہ کی تاریخ منتخب نمائندوں کو اثاثوں کےاظہار میں معمولی غلطیوں پر نااہل قرار دینےکی کئی مثالیں سمیٹے ہوئےھے
اس قیمتی جائیداد کےکاغذات
سے پتہ چلتاھے کہ عمران خان اور اُنکی بہنوں نےیہ جائیداد اپنے والد اکرام ﷲ خان نیازی سےستر لاکھ پاکستانی روپوں کے عوض
👇2/10
اکتوبر 2004 میں خریدی۔
جائیداد کی سرکاری دستاویزات کیمطابق یہ زمین ایک خاتون مِس نگہت اِرم کی ملکیت تھی
جِس نےخاص اِس زمین کیلئے 1996 میں اکرام ﷲ خان نیازی کو پاور آف اٹارنی یا مختار نامہ دیا
یہ اہم اراضی جو پانچ سو کنال اور نو مرلے پر مشتمل تھی، موضع رنگیاں، پھالیہ،
👇3/10
پھالیہ، فیروز والہ، ڈسٹرکٹ شیخوپورہ، لاہور شہر کےمضافات میں واقع ہے
پاکستانی قانون کیمطابق اپنےنام پر موجود کوئی بھی اثاثہ ظاہر نہ کرنا اثاثہ چھپاناھے اور اس سے متعلق غلط معلومات دینا غلط بیانی ہے۔عمران خان نے یہ دونوں کام کئےاگرچہ یہ جائیداد اُنھوں نےاکتوبر2004 خریدی تھی
👇4/10
تاہم اُنکی جانب سےالیکشن کمیشن میں سن 2005، سن 2006، اور سن دو ہزار سات کیلیے جمع کرائی گئی اثاثوں کی تفصیلات میں اسکا ذکر نہیں تھا-
عمران خان کے2005 سے 2009 کے #انکم_ٹیکس گوشواروں کے جائزے سے پتہ چلتاھے کہ وہ اِس اہم جائیداد کو اِن تمام سالوں کے دوران ٹیکس حکام سے بھی
👇5/10
چھپائےرکھا حالانکہ یہ جائیداد اُنھوں نےخریدی تھی اور یہ اُنکے نام منتقل ہوئی تھی
2008میں والد کےانتقال کے بعد آخرکار 2009 میں وزیرِاعظم عمران خان کی ہمشیرہ، علیمہ خان نےاسکو غلط بیانی کرتےہوئے وراثتی جائیداد کیطور پر جسکی قیمت صِفر تھی ظاہرکیا
حالانکہ اُنھوں نےاپنی بہنوں
👇6/10
اور بھائی کیساتھ ملکر اِسے ستر لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد خریدا تھا۔ یہ موروثی جائیداد نہیں تھی کیونکہ پراپرٹی کی مالک نگہت اِرم تھیں۔جبکہ علیمہ خان کے والد کےپاس صرف پاور آف اٹارنی تھی جس سےوہ یہ زمین عمران خان اور اُنکی بہنوں کو بطور تحفہ نہیں دےسکتےتھے
انکے پاس صرف
👇7/10
صرف اِسکو بیچنے کا اِختیار تھا، مالکانہ حقوق نہ ہونے کیوجہ سے وصیت میں دینے کا اختیار نہیں تھا۔ اِس جائیداد کی "جمع بندی” نامی دستاویز بھی اِس بات کی تصدیق کرتی ہے۔ اِس دستاویز سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ جائیداد دو ہزار چار تک مِس نگہت اِرم کے نام رہی اور اسی سال جب
👇8/10
عمران خان اور اُنکی بہنوں نے اِسے خریدا تو اُنکے نام منتقل ہو گئی۔
آخر کار 2010 میں عمران خان نے فیروزوالہ کی اس جائیداد کو اپنے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کیا مگر خریدی گئی اس جائیداد کو #وراثت کے طور پر ڈیکلیئر کیا۔ یہی نہیں ٹیکس ریٹرنز میں اس کی قیمت بھی صفر بتائی جبکہ
👇9/10
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ زمین خریدنے کیلیے انہوں ایک بڑی رقم ادا کی۔
دوہزاردس کے عمران خان کے ٹیکس ریٹرن کے متعلقہ حصے کی تصویر، دیکھا جاسکتا ہے کہ عمران خان نے فیروزوالہ پراپرٹی کو #وراثت ظاہر کیا اور اسکی قیمت بھی صفر بتائی۔
#عمران_شیطان_چور_ھے
End
فالو اور شیئر 🙏🙏🙏

جاري تحميل الاقتراحات...