2/10
ہیں۔ اور ایک قسم سانپ اور کتے ہیں اور ایک قسم آباد ہونے والے اور کوچ کرنے والے ہیں۔ اس حدیث کو طحاوی نے مشکل الآثار میں ( 4/95) اور طبرانی نے طبرانی کبیر میں ( 22/114 ) روایت کیا ہے اور شیخ البانی صاحب نے مشکاہ (21206 نمبر 4148) میں کہا ہے
ہیں۔ اور ایک قسم سانپ اور کتے ہیں اور ایک قسم آباد ہونے والے اور کوچ کرنے والے ہیں۔ اس حدیث کو طحاوی نے مشکل الآثار میں ( 4/95) اور طبرانی نے طبرانی کبیر میں ( 22/114 ) روایت کیا ہے اور شیخ البانی صاحب نے مشکاہ (21206 نمبر 4148) میں کہا ہے
3/10
کہ اسے طحاوی اور ابو الشیخ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے.
علامہ بدرالدین محمد دین احمد
عینی بخاری شریف کی شہرہ آفاق شرح عمدة القاری میں جنات کی چند اقسام تحریر کرتے ہیں۔
1۔غول: یہ سب سے خطرناک اور خبیث جن ہے جو کسی سے مانوس نہیں ہوتا۔ جنگلات میں رہتا ہے مختلف شکلیں
کہ اسے طحاوی اور ابو الشیخ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے.
علامہ بدرالدین محمد دین احمد
عینی بخاری شریف کی شہرہ آفاق شرح عمدة القاری میں جنات کی چند اقسام تحریر کرتے ہیں۔
1۔غول: یہ سب سے خطرناک اور خبیث جن ہے جو کسی سے مانوس نہیں ہوتا۔ جنگلات میں رہتا ہے مختلف شکلیں
4/10
بدلتا رہتا ہے اور رات کے وقت دکھائی دیتا ہے اور تنہا سفر کرنے والے مسافر کو عموماً دکھائی دیتا ہے جو اسے اپنے جیسا انسان سمجھ بیٹھتا ہے، یہ اس مسافر کو راستے سے بھٹکاتا ہے۔
2۔سعلاة: یہ بھی جنگلوں میں رہتا ہے جب کسی انسان کو دیکھتا ہے تو اس کے سامنے ناچنا شروع کردیتا ہے
بدلتا رہتا ہے اور رات کے وقت دکھائی دیتا ہے اور تنہا سفر کرنے والے مسافر کو عموماً دکھائی دیتا ہے جو اسے اپنے جیسا انسان سمجھ بیٹھتا ہے، یہ اس مسافر کو راستے سے بھٹکاتا ہے۔
2۔سعلاة: یہ بھی جنگلوں میں رہتا ہے جب کسی انسان کو دیکھتا ہے تو اس کے سامنے ناچنا شروع کردیتا ہے
5/10
اور اس چوہے بلی کا کھیل کھیلتا ہے۔
3۔ غدار: یہ مصر کے اطراف اور یمن میں بھی پایا جاتا ہے اسے دیکھتے ہی انسان بے ہوش ہو کر گر جاتاہے۔
4۔ ولھان: یہ ویران سمندری جزیروں میں رہتا ہے اس کی شکل ایسی ہے جیسے انسان شتر مرغ پر سوار ہوتا ہے جو انسان جزیروں میں جا پڑتے ہیں
اور اس چوہے بلی کا کھیل کھیلتا ہے۔
3۔ غدار: یہ مصر کے اطراف اور یمن میں بھی پایا جاتا ہے اسے دیکھتے ہی انسان بے ہوش ہو کر گر جاتاہے۔
4۔ ولھان: یہ ویران سمندری جزیروں میں رہتا ہے اس کی شکل ایسی ہے جیسے انسان شتر مرغ پر سوار ہوتا ہے جو انسان جزیروں میں جا پڑتے ہیں
6/10
انہیں کھا لیتا ہے۔ (عمدة القاری ، ج 10، ص 644/جنات کی حکایات ص 10)
قرآن پاک میں ”عفریت “ جن کا ذکر موجود ہے۔عفریت جنات کے ایک قبیلے کا نام ہے اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے جنات کو عفریت کہا جاتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی کابینہ کا اجلاس ہو رہا تھا ، انہوں نے اپنی
انہیں کھا لیتا ہے۔ (عمدة القاری ، ج 10، ص 644/جنات کی حکایات ص 10)
قرآن پاک میں ”عفریت “ جن کا ذکر موجود ہے۔عفریت جنات کے ایک قبیلے کا نام ہے اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے جنات کو عفریت کہا جاتا ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی کابینہ کا اجلاس ہو رہا تھا ، انہوں نے اپنی
7/10
کابینہ میں کہا کہ ملکہ بلقیس کا تخت کون لے کر آئے گا تو قرآن میں ہے:
قال عفریت من الجن انا اتیک بہ قبل ان تقوم من مقامک(سورہ نمل آیت39)
عفریت نے کہا اے سلیمان میں اس کا تخت آپ کے یہاں سے کھڑا ہونے سے پہلے لاوں گا۔ لیکن اسی کابینہ میں ایک اللہ کا بندہ موجود تھا جس نے کہا:
کابینہ میں کہا کہ ملکہ بلقیس کا تخت کون لے کر آئے گا تو قرآن میں ہے:
قال عفریت من الجن انا اتیک بہ قبل ان تقوم من مقامک(سورہ نمل آیت39)
عفریت نے کہا اے سلیمان میں اس کا تخت آپ کے یہاں سے کھڑا ہونے سے پہلے لاوں گا۔ لیکن اسی کابینہ میں ایک اللہ کا بندہ موجود تھا جس نے کہا:
8/10
قال الذی عندہ علم من الکتاب انا آتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک۔
وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا اے سلیمان میں اس کا تخت پلک جھپکنے سے پہلے لاوں گا۔ اور پھر وہ لے بھی آیا۔ اس واقعہ سے ایک اہم نکتہ ہمیں یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جنوں سے بھی زیادہ علم
قال الذی عندہ علم من الکتاب انا آتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک۔
وہ شخص جس کے پاس کتاب کا علم تھا اس نے کہا اے سلیمان میں اس کا تخت پلک جھپکنے سے پہلے لاوں گا۔ اور پھر وہ لے بھی آیا۔ اس واقعہ سے ایک اہم نکتہ ہمیں یہ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جنوں سے بھی زیادہ علم
9/10
اور طاقت عطا کی ہے۔آج کے دور میں انسان کی طاقت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کیونکہ انسان اگرچہ خود جنوں کی طرح تیز رفتار تو نہیں لیکن اس نے ایسے جہاز اور گاڑیاں بنا دی ہیں جو مہینوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرلیتی ہیں۔ انسان ایک ملک میں بیٹھ کر دوسرے ملک میں بیٹھے لوگوں کو نہ
اور طاقت عطا کی ہے۔آج کے دور میں انسان کی طاقت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کیونکہ انسان اگرچہ خود جنوں کی طرح تیز رفتار تو نہیں لیکن اس نے ایسے جہاز اور گاڑیاں بنا دی ہیں جو مہینوں کا سفر گھنٹوں میں طے کرلیتی ہیں۔ انسان ایک ملک میں بیٹھ کر دوسرے ملک میں بیٹھے لوگوں کو نہ
10/10
صرف دیکھ سکتا ہے بلکہ لائیو ان سے بات کرسکتا ہے اور اپنی آواز ان تک پہنچا سکتا ہے۔
صرف دیکھ سکتا ہے بلکہ لائیو ان سے بات کرسکتا ہے اور اپنی آواز ان تک پہنچا سکتا ہے۔
جاري تحميل الاقتراحات...