پاکستان کی سابق ملکہ وفات پا گئیں
ملکہ الزبتھ دوم پاکستان کی دوسری سربراہ مملکت تھی
وہ 1952 سے 23 مارچ 1956 تک پاکستان کی ملکہ رہیں ان سے قبل جارج ششم 1947 سے 1952 تک پاکستان کے بادشاہ رہے
پاکستان 14اگست 1947 کو انتظامی لحاظ سے برطانیہ سے آزاد ہوا تھا لیکن آئینی لحاظ سے ہم
1👇
ملکہ الزبتھ دوم پاکستان کی دوسری سربراہ مملکت تھی
وہ 1952 سے 23 مارچ 1956 تک پاکستان کی ملکہ رہیں ان سے قبل جارج ششم 1947 سے 1952 تک پاکستان کے بادشاہ رہے
پاکستان 14اگست 1947 کو انتظامی لحاظ سے برطانیہ سے آزاد ہوا تھا لیکن آئینی لحاظ سے ہم
1👇
آزاد نہیں ہوئے تھے
23 مارچ 1956 تک پاکستان آۂینی طور برطانوی بادشاہت کا حصہ تھا
وجہ یہ تھی کہ جب 14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس وقت پاکستان کا اپنا کوئ آئین نہیں تھا
عارضی طور پر برطانیہ کا دیا ہوا انڈین ایکٹ 1935 ترمیم کے بعد پاکستان میں نافذ کیا گیا تھا
2👇
23 مارچ 1956 تک پاکستان آۂینی طور برطانوی بادشاہت کا حصہ تھا
وجہ یہ تھی کہ جب 14 اگست 1947 کو پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس وقت پاکستان کا اپنا کوئ آئین نہیں تھا
عارضی طور پر برطانیہ کا دیا ہوا انڈین ایکٹ 1935 ترمیم کے بعد پاکستان میں نافذ کیا گیا تھا
2👇
اسی لیے قائد اعظم نے 14 اگست 1947 کو صدر پاکستان کی بجائے گورنر جنرل کا حلف لیا تھا اور گورنر جنرل پاکستان میں برطانوی بادشاہ کا نمائندہ تھا
انڈیا میں بھی یہی صورت حال تھی وہاں کا گورنر جنرل بھی انڈیا میں برطانوی بادشاہ کی نمائندگی کرتا تھا
انڈیا نے 1950 میں اپنا آئین بنا
3👇
انڈیا میں بھی یہی صورت حال تھی وہاں کا گورنر جنرل بھی انڈیا میں برطانوی بادشاہ کی نمائندگی کرتا تھا
انڈیا نے 1950 میں اپنا آئین بنا
3👇
لیا اور برطانوی بادشاہت سے آۂینی آزادی حاصل کر لی
اور ان کا گورنر جنرل اپنے آئین کے تحت انڈیا کا صدر بن گیا
ہم آزاد ہونے کے 9 سال تک اپنا آئین نہ بنا سکے اس لیے پاکستان میں گورنر جنرل 9 سال تک برطانوی بادشاہت کا نمائندہ رہا
پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائدِ اعظم تھے،
دوسرے
4👇
اور ان کا گورنر جنرل اپنے آئین کے تحت انڈیا کا صدر بن گیا
ہم آزاد ہونے کے 9 سال تک اپنا آئین نہ بنا سکے اس لیے پاکستان میں گورنر جنرل 9 سال تک برطانوی بادشاہت کا نمائندہ رہا
پاکستان کے پہلے گورنر جنرل قائدِ اعظم تھے،
دوسرے
4👇
گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین، تیسرے گورنر جنرل غلام محمد اور چوتھے گورنر جنرل سکندر مرزا تھے
جب پاکستان کا پہلا آئین 23 مارچ 1956 کو ملک میں نافذ کیا گیا تو اس وقت پاکستان کے آئین کے تحت چوتھے گورنر جنرل سکندر مرزا پاکستان کے پہلے صدر بنے
پاکستان کی تاریخ لکھنے والوں نے
5👇
جب پاکستان کا پہلا آئین 23 مارچ 1956 کو ملک میں نافذ کیا گیا تو اس وقت پاکستان کے آئین کے تحت چوتھے گورنر جنرل سکندر مرزا پاکستان کے پہلے صدر بنے
پاکستان کی تاریخ لکھنے والوں نے
5👇
اپنی زمہ داریاں پوری نہیں کیں
تمام تعلیمی اداروں میں یہ بات طالب علموں کو نہ بتائی جاتی ہے، نہ پڑھائی جاتی ہے یہاں تک کہ پڑھانے والوں کو بھی اس کا علم نہیں
پاکستان کی ہسٹری لکھتے وقت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے
14 اگست 1947 سے 23 مارچ 1956 تک پاکستان کے آئینی سربراہ کی
6👇
تمام تعلیمی اداروں میں یہ بات طالب علموں کو نہ بتائی جاتی ہے، نہ پڑھائی جاتی ہے یہاں تک کہ پڑھانے والوں کو بھی اس کا علم نہیں
پاکستان کی ہسٹری لکھتے وقت غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے
14 اگست 1947 سے 23 مارچ 1956 تک پاکستان کے آئینی سربراہ کی
6👇
ہسٹری کو غائب کر دیا گیا ہے
قوم کو اور طالب علموں کو یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ قائد اعظم نے 14 اگست 1947 کو گورنر جنرل کا حلف کیوں اٹھایا ؟وہ صدر پاکستان کیوں نہ بنے ؟
7✍️
قوم کو اور طالب علموں کو یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ قائد اعظم نے 14 اگست 1947 کو گورنر جنرل کا حلف کیوں اٹھایا ؟وہ صدر پاکستان کیوں نہ بنے ؟
7✍️
جاري تحميل الاقتراحات...