RiazS Ujjan
RiazS Ujjan

@RiazUjjan72

6 تغريدة 5 قراءة Sep 13, 2022
ماحولیاتی صحافی @amarguriro کے مطابق سندھ کو موسمیاتی تبدیلی کے بعد سندھ کے روینیو ڈپارٹمنٹ، اسکارپ، واپڈا، آبپاشی ، ہائی وے اتھارٹی اور بیروکریٹس نے ڈبویا۔ دریائے سندھ کے دائیں جانب کے اضلاع میں آنے والے سیلاب کا پانی ادھر ادھر سے گھوم کر سیہون کے پاس دریا میں جانا ہے۔
🧵1/
جب کہ بائیں جانب کے تمام اضلاع کا سیلابی پانی لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین اور اس سے متصل قدرتی پانی کے راستوں سے گزر کر سمندر جانا ہے۔ جبکہ ضلع خیرپور اور نوشہرو فیروز کا پانی دریائے سندھ سے ہوکر سمندر میں گرنا ہے. /2
ایل بی او ڈی کی ناقص ڈزائین، شاہراہوں پر پانی کے گرزنے کے راستے نہ دینا، پانی کے قدرتی بہاؤ کے راستوں پر قبضے ہوجانا۔ ان سب کے باعث صورتحال گمبھیر ہوئی ہے۔ اور اب دوسرے مرحلے میں بیوریوکریسی اور بااثر افراد کے ذاتی اور گروہی مفادات جو حال کر رہے ہیں وہ بھی دیکھنے جیسا ہے۔
3/
بارش کو ختم ہوئے تقریباً تین ہفتے سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے مگر ابھی تک خیرپور اور نوشہرو فیروز اضلاع سے پانی کے اخراج کی کوئی جامع حکمت عملی نظر نہیں آئی ہے. آج کی پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق خیرپور میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 44 افراد کی موت واقع ہوئی ہے جس میں 20 بچے ہیں.
4/
ادھر ایل بی او ڈی کی زیرو پوائنٹ کو کٹ لگا کر میرپور خاص سے پانی کے اخراج پر جھگڑا چل رہا ہے. بدین والوں کا کہنا ہے کہ زیرو پوائنٹ سے کٹ لگانے سے پانی کے سمندر میں اخراج میں تیزی نہیں آئے گی جبکہ بدین شہر اور اس کے کئی علاقے ڈوب جائیں گے. اس سارے فسانے میں گھروں سے
5/
بے گھر ہوئے افراد کو کوئی پوچھنے والا نہیں. لوگوں کو خیما بستیوں میں بسانے اور ان تک امداد کی اشیاء پہنچانے میں حکومت مکمل طور پر بے بس اور ناکام دکھائی دے رہی ہے.
6/6

جاري تحميل الاقتراحات...