Shenza PTI
Shenza PTI

@ShenzaPTI

11 تغريدة 4 قراءة Sep 02, 2022
چلیں آج بحران در بحران سچویشن کا جائزہ لیتے ہیں
(پلیز مکمل پڑھیں)
1۔ جب 9 اپریل 2022 کو عمران خان حکومت کا تختہ الٹا گیا تو ملکی معیشت آج کے مقابلے میں بہت مستحکم تھی مگر اتنی مستحکم بھی نہیں تھی کہ دنیا جہاں کے چور اور فراڈیے لا کر بٹھا دیں اور پھر بھی چلتی رہے
1/10
جیسے ہی چور اچکے آئے تو اوورسیز پاکستانیوں نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے پیسہ نکالنا شروع کر دیا۔ foreign remittances بہت کم ہو گئیں۔ سارے چور ڈاکو ایک ہی فریم میں دیکھ کر بزنسمین نہایت خوفزدہ ہو گئے۔ باقی کسر چور اچکوں نے خود نکال دی
صرف ایک ہی ماہ میں وزیراعظم گھٹنوں
2/10
پر آ گئے
2۔ ادھر پنجاب حکومت پر زبردستی قبضہ کیا اور کروایا گیا تو حمزہ شہباز جو کہ کبھی ایک منشی بھی نہیں رہے ان کی ساری توجہ خان اور پی ٹی آئی پر رہی جبکہ گندم کی خریداری کا وقت چپکے سے گزر گیا۔ یاد رہے کہ پاکستان کی ضروریات کے لئے 80% سے زاید گندم پنجاب حکومت
3/10
خرید کر باقی صوبوں کو بھی سپلائی کرتی تھی۔ جب گندم خریداری کا وقت گزر گیا تو عمران ریاض خان نے اپنے ویلاگ میں اس بلنڈر کا ذکر کیا۔ یہ سنتے ہی حکومت کی دوڑیں لگ گئیں۔ بالآخر فیصلہ ہوا کہ روس سے گندم خریدی جائے مگر کیسے؟؟؟ آئی ایم ایف کے پیچھے بھاگے مگر آئی ایم ایف
4/10
ان سے بھی آگے بھاگ کھڑی ہوئی۔
اسی دوران سیلاب آنے شروع ہوئے تو ایک بھیانک ترین فیصلہ کیا گیا۔ جان بوجھ کر سیلاب کو مزید بگڑنے دیا گیا۔ NDMA اور دوسرے ادارے مکمل خاموش رہے۔ سچویشن بگڑی تو شور مچ گیا۔ جو گندم کا تھوڑا بہت سٹاک موجود تھا وہ بھی جان بوجھ کر ضائع کیا
5/10
گیا تا کہ گندم نہ خریدنے کی لغزش کو سیلاب کے کھاتے میں ڈالا جائے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان سال کے شروع میں روس کی طرف بھاگ رہے تھے کہ گندم ختم ہو رہی ہے اور ہمیں بہت بڑی مقدار میں گندم چاہئیے۔ اس وقت 5 ماہ بھی گزر گئے۔ گندم خریدی بھی نہیں۔ جو سٹاک تھا
6/10
وہ بھی حمزہ شہباز کی نگرانی میں افغانستان سمگل کر دی گئی تو باقی کون سی گندم بچی تھی جو سیلاب لے اڑا؟؟
یہ وہ حرامزادگی ہے جس کی وجہ سے دنیا ہماری چیخ و پکار پر دھیان نہیں دے رہی تھی کیونکہ وہ سب دیکھ رہے تھے کہ کون کیا کر رہا ہے۔ آپ عوام کو دھوکا دے سکتے ہیں مگر
7/10
دنیا کے اعلی ترین دماغوں کو نہیں
3۔ اب آئیے ٹماٹر پیاز کے لئے انڈیا سے تجارت کی طرف
سوال یہ ہے کہ ہمارے پورے سال کی تمام سبزیاں اور پھل تو پہلے ہی محفوظ ترین cold storage میں جمع ہوتے ہیں۔بہت ہی minor سی مقدار تازہ سبزیوں کی مارکیٹ میں ڈائریکٹ جاتی ہے
وہ سٹاک
8/10
کہاں چلے گئے جبکہ آج کی تاریخ تک ایک بھی سٹور damage نہیں ہوا؟؟
چلئے فرض کر لیجئے کہ ہمارے پاس واقعی پیاز ٹماٹر شارٹ ہو گئے ہیں تو ہم بھارت سے کیوں لے رہے ہیں جبکہ بھارت میں تو سیزن بھی نہیں ہے
ہم ایران سے کیوں نہیں لے رہے جہاں سیزن بھی ہے اور یہ دونوں چیزیں تقریبا مفت
9/10
میں مل رہی ہیں؟
ایک سیلاب آیا اورIMF ڈیل؛گندم کا بلنڈر؛بھارت کے ساتھ تعلقات؛اسرائیل کے ساتھ تعلقاتJustify ہو گئے
تو پھر سیلاب پر سوالیہ نشان اٹھ گئے ہیں
اس ساری سچویشن کی مکمل انکوائری ہونی چاہئیے اور جس نے بھی اتنا خوفناک منصوبہ بنایا اور execute کیا اسکو اڑا دینا چاہیئے
10/10

جاري تحميل الاقتراحات...