7/20
پیچھے کی وجوہات کیا تھیں۔۔ تو میں اپنی تحقیق کے مطابق بتاتا چلوں کہ دراصل امریکا کی نیت پہلے سے ہی خراب تھی ، روس شکست کھا کر چلا گیا ۔۔امریکا نے الو سیدھا کر لیا، اس کے بعد وہ دوستم جیسے دگڑدلے لبڑل کو پیسے دے کر اسے مجاہدین سے لڑوا رہا تھا اور ملک میں خانہ جنگی
پیچھے کی وجوہات کیا تھیں۔۔ تو میں اپنی تحقیق کے مطابق بتاتا چلوں کہ دراصل امریکا کی نیت پہلے سے ہی خراب تھی ، روس شکست کھا کر چلا گیا ۔۔امریکا نے الو سیدھا کر لیا، اس کے بعد وہ دوستم جیسے دگڑدلے لبڑل کو پیسے دے کر اسے مجاہدین سے لڑوا رہا تھا اور ملک میں خانہ جنگی
8/20
کروا رہا تھا تو مجاہدین اس سے مقابلہ نہ کرتے تو کیا کرتے۔۔
دوسرے کئی محرکات بھی تھے ، افغان قوم کی تاریخ میں علاقائی اور لسانی جھگڑے موجود رہے ہیں ۔ ان سب میں زیادہ تر قائدین اسلام اور ملک کی وحدت کے بارے میں مخلص ہوکر کوشش کرتے رہے کہ اقتدار ان کے ہاتھ آ جائے تاکہ وہ
کروا رہا تھا تو مجاہدین اس سے مقابلہ نہ کرتے تو کیا کرتے۔۔
دوسرے کئی محرکات بھی تھے ، افغان قوم کی تاریخ میں علاقائی اور لسانی جھگڑے موجود رہے ہیں ۔ ان سب میں زیادہ تر قائدین اسلام اور ملک کی وحدت کے بارے میں مخلص ہوکر کوشش کرتے رہے کہ اقتدار ان کے ہاتھ آ جائے تاکہ وہ
9/20
یہاں ایک صحیح اسلامی حکومت قائم کر کے افغان قوم کو مصائب اور مشکلات سے نکال سکیں۔
لیکن ایک دوسرے پر بےاعتمادی کی وجہ سے حکمت یار اور احمد شاہ مسعود میں خونی جنگیں ہوئیں جن سے ان کی قوت کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا۔
افغان طالبان کے بارے میں انکا تشخص خراب کرنے
یہاں ایک صحیح اسلامی حکومت قائم کر کے افغان قوم کو مصائب اور مشکلات سے نکال سکیں۔
لیکن ایک دوسرے پر بےاعتمادی کی وجہ سے حکمت یار اور احمد شاہ مسعود میں خونی جنگیں ہوئیں جن سے ان کی قوت کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا۔
افغان طالبان کے بارے میں انکا تشخص خراب کرنے
10/20
کیلیے نہایت جھوٹا پروپیگنڈا طالبان ظالمان کہہ کر کیا جاتا رہا اور اس پروپیگنڈے میں لادین افغانی و پاکستانی سرخے پیش پیش رہے ہیں جن کے پروپیگنڈے کو کیمونسٹ ، خونی لبڑلز اور مخالف فرقہ پرستوں نے خوب دوام بخشا۔
مشرف دور میں کرنل امام نے امریکہ کو طالبان مجاہدین کی
کیلیے نہایت جھوٹا پروپیگنڈا طالبان ظالمان کہہ کر کیا جاتا رہا اور اس پروپیگنڈے میں لادین افغانی و پاکستانی سرخے پیش پیش رہے ہیں جن کے پروپیگنڈے کو کیمونسٹ ، خونی لبڑلز اور مخالف فرقہ پرستوں نے خوب دوام بخشا۔
مشرف دور میں کرنل امام نے امریکہ کو طالبان مجاہدین کی
11/20
حوالگی پر غم و غصّے کا شدید اظہار کیا ، اسکے علاوہ وہ کٹھپتلی حامد کرزاٸی کی حکومت اور افغانی سرخوں کو افغانستان میں خانہ جنگی کے نتیجے میں چالیس لاکھ افغانوں کے قتل ہونے پر پاکستان کو اپنا دشمن اور برا بھلا کہنے پر حیرانگی و دکھ کا اظہار بھی کرتے تھے۔
جنرل مرزا
حوالگی پر غم و غصّے کا شدید اظہار کیا ، اسکے علاوہ وہ کٹھپتلی حامد کرزاٸی کی حکومت اور افغانی سرخوں کو افغانستان میں خانہ جنگی کے نتیجے میں چالیس لاکھ افغانوں کے قتل ہونے پر پاکستان کو اپنا دشمن اور برا بھلا کہنے پر حیرانگی و دکھ کا اظہار بھی کرتے تھے۔
جنرل مرزا
13/20
انہوں نے اپنی مدد کے لیے کرنل امیر امام کو بلا لیا۔ آرمٹیج نے امیر امام کو دیکھا تو گھبرا گئے لیکن جب تعارف کرایا تو پہچان گئے کہ یہ وہی امیر امام ہیں، جو ہرات میں پاکستان کے قونصل جنرل تھے۔
رچرڈ آرمٹیج مطمئن ہو گئے اور صاف صاف بتایا کہ امریکا افغان طالبان سے
انہوں نے اپنی مدد کے لیے کرنل امیر امام کو بلا لیا۔ آرمٹیج نے امیر امام کو دیکھا تو گھبرا گئے لیکن جب تعارف کرایا تو پہچان گئے کہ یہ وہی امیر امام ہیں، جو ہرات میں پاکستان کے قونصل جنرل تھے۔
رچرڈ آرمٹیج مطمئن ہو گئے اور صاف صاف بتایا کہ امریکا افغان طالبان سے
14/20
مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ کافی تفصیل سے بات ہوئی اور طے پایا کہ مذاکرات کے لیے کوشش ضرور کی جائے گی۔ کرنل امام نے طالبان سے رابطہ کیا اور طالبان نے انہیں مذاکرات کے لیے پانچ نام دے دیے، جن میں تین پختون، ایک تاجک اور ایک ہزارہ شامل تھے۔ کرنل امام نے یہ نام آرمٹیج تک پہنچا
مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ کافی تفصیل سے بات ہوئی اور طے پایا کہ مذاکرات کے لیے کوشش ضرور کی جائے گی۔ کرنل امام نے طالبان سے رابطہ کیا اور طالبان نے انہیں مذاکرات کے لیے پانچ نام دے دیے، جن میں تین پختون، ایک تاجک اور ایک ہزارہ شامل تھے۔ کرنل امام نے یہ نام آرمٹیج تک پہنچا
15/20
دیے، جن کے ساتھ ان کا ای میل پر رابطہ تھا۔ کرنل امام سب معاملے سے متعلقہ پاکستانی حکام کو بھی باخبر رکھے ہوئے تھے۔
اس بات سے افغانستان میں پیسہ لگانے والا بھارت اور افغان کٹھپتلی حکومت بہت فکر مند ہوۓ۔۔اور انہوں نے بھی پاکستان میں موجود اپنی کٹھپتلیوں کو ہلانا
دیے، جن کے ساتھ ان کا ای میل پر رابطہ تھا۔ کرنل امام سب معاملے سے متعلقہ پاکستانی حکام کو بھی باخبر رکھے ہوئے تھے۔
اس بات سے افغانستان میں پیسہ لگانے والا بھارت اور افغان کٹھپتلی حکومت بہت فکر مند ہوۓ۔۔اور انہوں نے بھی پاکستان میں موجود اپنی کٹھپتلیوں کو ہلانا
16/20
شروع کیا۔۔
اسی دوران کرنل امام اپنے ایک دیرینہ ساتھی سابق ونگ کمانڈر خالد خواجہ کے ہمراہ وزیرستان میں TTP سے مذاکرات کیلیے روانہ ہوۓ۔
یاد رہے TTP تقریباً چھپن 56 دھڑوں میں تقسیم تھی (جسکی وجہ سے اس دور میں اچھے اور برے طالبان کا تصور پیش کیا گیا تھا )
شروع کیا۔۔
اسی دوران کرنل امام اپنے ایک دیرینہ ساتھی سابق ونگ کمانڈر خالد خواجہ کے ہمراہ وزیرستان میں TTP سے مذاکرات کیلیے روانہ ہوۓ۔
یاد رہے TTP تقریباً چھپن 56 دھڑوں میں تقسیم تھی (جسکی وجہ سے اس دور میں اچھے اور برے طالبان کا تصور پیش کیا گیا تھا )
17/20
تصور یہ تھا کہ کرنل امام 26 مارچ 2010 کو خالدخواجہ اور صحافی اسد قریشی کے ہمراہ وزیرستان میں ڈاکومینٹری بنانے گٸے تھے۔
مگر جب وہ وزیرستان پہنچے تو TTP نے انہیں اغوا کرلیا۔
بعد ازاں بیرونی آقاٶں کے اشارے پہ حکیم اللہ محسود ٹولے نے ان کے اغوا ہونے کا اعلان کیا۔اور
تصور یہ تھا کہ کرنل امام 26 مارچ 2010 کو خالدخواجہ اور صحافی اسد قریشی کے ہمراہ وزیرستان میں ڈاکومینٹری بنانے گٸے تھے۔
مگر جب وہ وزیرستان پہنچے تو TTP نے انہیں اغوا کرلیا۔
بعد ازاں بیرونی آقاٶں کے اشارے پہ حکیم اللہ محسود ٹولے نے ان کے اغوا ہونے کا اعلان کیا۔اور
18/20
اسی دوران خالد خواجہ کو شہید کر دیا تھا اور بوڑھے کرنل امام کے بدلے حکومت پاکستان سے 70 دہشتگردوں کی رہاٸی کا مطالبہ کیا اور صحافی اسد رٶف کو بھاری تاوان لے کر آزاد کیا گیا ۔
یہ بھی پتا چلا کہ جب افغان طالبان کو کرنل امام کے اغوا کا علم ہوا تو اس وقت TTP کو ملاعمر کی
اسی دوران خالد خواجہ کو شہید کر دیا تھا اور بوڑھے کرنل امام کے بدلے حکومت پاکستان سے 70 دہشتگردوں کی رہاٸی کا مطالبہ کیا اور صحافی اسد رٶف کو بھاری تاوان لے کر آزاد کیا گیا ۔
یہ بھی پتا چلا کہ جب افغان طالبان کو کرنل امام کے اغوا کا علم ہوا تو اس وقت TTP کو ملاعمر کی
جاري تحميل الاقتراحات...